حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 731 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 731

731 اللهُ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ۔(النور: 36) نُورٌ عَلى نُور - نور فائض ہو انور پر (یعنی جب کہ وجود مبارک حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم میں کئی نور جمع تھے۔سوان نوروں پر ایک اور نور آسمانی جو وحی الہی ہے وارد ہو گیا اور اس نور کے وارد ہونے سے وجود باجود خاتم الانبیاء کا مجمع الانوار بن گیا پس اس میں یہ اشارہ فرمایا کہ نور وحی کے نازل ہونے کا یہی فلسفہ ہے کہ وہ نور پر ہی وارد ہوتا ہے تاریکی پر وارد نہیں ہوتا کیونکہ فیضان کیلئے مناسب شرط ہے اور تاریکی کونور سے کچھ مناسبت نہیں بلکہ نور کونور سے مناسبت ہے اور حکیم مطلق بغیر رعایت مناسبت کوئی کام نہیں کرتا۔ایسا ہی فیضان نور میں بھی اس کا یہی قانون ہے کہ جس کے پاس کچھ نور ہے اس کو اور نور بھی دیا جاتا ہے اور جس کے پاس کچھ نہیں اس کو کچھ نہیں دیا جاتا۔جوشخص آنکھوں کا نور رکھتا ہے وہی آفتاب کا نور پاتا ہے اور جس کے پاس آنکھوں کا نور نہیں وہ آفتاب کے نور سے بھی بے بہرہ رہتا ہے اور جس کو فطرتی نور کم ملا ہے اس کو دوسرا نور بھی کم ہی ملتا ہے اور جس کو فطرتی نور زیادہ ملا ہے اسکو دوسرا نور بھی زیادہ ہی ملتا ہے اور انبیاء منجملہ سلسلہ متفاوتہ فطرت انسانی کے وہ افراد عالیہ ہیں جن کو اس کثرت اور کمال سے نور باطنی عطا ہوا ہے کہ گویا وہ نور مجسم ہو گئے ہیں۔اسی جہت سے قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نور اور سراج منیر رکھا ہے جیسا فرمایا ہے قَدْ جَاءَ كُم مِّنَ اللهِ نُورٌ وَّ كِتَابٌ مُّبِينٌ الجزو نمبر 6 وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا الجزو نمبر 22 یہی حکمت ہے کہ نوروجی جس کے لئے نور فطرتی کا کامل اور عظیم الشان ہونا شرط ہے صرف انبیاء کو ملا اور انہیں سے مخصوص ہوا۔( براھین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 1 صفحہ 195-196 حاشیہ 11 ) کہتے ہیں یورپ کے ناداں یہ نبی کامل نہیں وحشیوں میں دیں کو پھیلانا یہ کیا مشکل تھا کار پر بنانا آدمی وحشی کو ہے اک معجزہ معنی راز نبوت ہے اسی سے آشکار نور لائے آسماں سے خود بھی وہ اک نور تھے قوم وحشی میں اگر پیدا ہوئے کیا جائے عار روشنی میں مہر تاباں کی بھلا کیا فرق ہو گرچہ نکلے روم کی سرحد سے یا از زنگ بار ( در مشین اردو صفحہ 135 براھین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 21 صفحہ 144) و الحق ان للملك لمة بقلب بنى ادم و للشياطين لمة فاذا اراد الله ان يبعث مصلحا من رسول اونبى او محدث فيقوى لمة الملك و يجعل استعدادات الناس قريبة لقبول الحق و يعطيهم عقلا و فهما و همة وقوة تحمل المصائب و نور فهم القرآن ما كانت لهم قبل ظهور ذلك المصلح فتصفى الاذهان وتتقوى العقول وتعلو الهمم ويجد كل احد كانه اوقظ من نومه و كان نورا ينزل من غيب على قلبله و كان معلما قام ببطنه و يكون الناس كان الله بدل مزاجهم و طبیعتهم و شحذ اذهانهم و افکارهم فاذ اظهرت و اجتمعت هذه العلامات كلها فتدل بدلالة قطعية على ان المجدد الاعظم قد ظهر والنور النازل قد نزل۔