حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 699
699 ضلالت کے معافی قَالُوا تَاللَّهِ إِنَّكَ لَفِي ضَلَلِكَ الْقَدِيمِ۔(يوسف: 96) ضال کے معنی گمراہ نہیں ہے بلکہ انتہائی درجہ کے تعشق کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ حضرت یعقوب کی نسبت اسی کے مناسب یہ آیت ہے۔اِنَّكَ لَفِی ضَلِلِكَ الْقَدِيم۔سو یہ دونوں لفظ ظلم اور ضلالت اگر چہان معنوں پر بھی آتے ہیں کہ کوئی شخص جادہ اعتدال اور انصاف کو چھوڑ کر اپنے شہوات غصبیہ یا بہیمیہ کا تابع ہو جاوے لیکن قرآن کریم میں عشاق کے حق میں بھی آئے ہیں جو خدا تعالیٰ کے راہ میں عشق کی مستی میں اپنے نفس اور اس کے جذبات کو پیروں کے نیچے کچل دیتے ہیں۔اسی کے مطابق حافظ شیرازی کا یہ شعر ہے آسمان بار امانت نتوانست کشید قرعه فال بنام من دیوانه زدند اس دیوانگی سے حافظ صاحب حالت تعشق اور شدت حرص اطاعت مراد لیتے ہیں۔آئینہ کمالات اسلام۔۔۔خ۔جلد 5 صفحہ 173) ضلالت کے یہ بھی معنے ہیں کہ افراط محبت سے ایک شخص کو ایسا اختیار کیا جائے کہ دوسرے کا عزت کے ساتھ نام سنے کی بھی برداشت نہ رہے جیسا کہ اس آیت میں بھی یہی معنے مراد ہیں کہ إِنَّكَ لَفِي ضَلِلِكَ الْقَدِيمِ۔(تحفہ گولڑویہ۔ر۔خ۔جلد 17 صفحہ 269 حاشیہ در حاشیه ) کتاب سے مراد فہم کتاب۔اور قابل تقلید عمدہ باتیں ہیں قَالَ إِنِّى عَبْدُ اللهِ ذاتنِيَ الْكِتَبَ وَجَعَلَنِى نَبِيًّا۔(مريم: 31) ( ملفوظات جلد اول صفحہ 569) اتنِيَ الْكِتَبَ سے مراد ہم کتاب۔مگر افسوس تو یہ ہے کہ وہ اتنا نہیں جانتے کہ قرآن مجید لانے والا وہ شان رکھتا ہے کہ يَتْلُوا صُحُفًا مُّطَهَّرَةً فِيهَا كُتُبْ قَيِّمَةٌ (البيئة: 4:3) ایسی کتاب جس میں ساری کتابیں اور ساری صداقتیں موجود ہیں۔کتاب سے مراد عام مفہوم وہ عمدہ باتیں ہیں جو بالطبع انسان قابل تقلید سمجھتا ہے۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 52-51) کرسی سے مراد عظمت باری تعالیٰ ہے۔وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَتُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ۔یعنی خدائی کرسی کے اندر تمام زمین و آسمان سمائے ہوئے ہیں اور وہ ان سب کو اٹھائے ہوئے ہے ان کے اٹھانے سے وہ تھکتا نہیں ہے اور وہ نہایت بلند ہے کوئی عقل اس کی کنہ تک پہنچ نہیں سکتی اور نہایت بڑا ہے اس کی عظمت کے آگے سب چیزیں بیچ ہیں۔یہ ہے ذکر کرسی کا اور یہ حض ایک استعارہ ہے جس سے یہ جتلا نا منظور ہے کہ زمین و آسمان سب خدا کے تصرف میں ہیں اور ان سب سے اس کا مقام دور تر ہے اور اس کی عظمت نا پیدا کنار ہے۔(چشمہ معرفت - ر-خ-جلد 23 صفحہ 118 حاشیہ )