حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 700
700 لفظ کلمہ سے مراد ( عام ارواح اور ارواح طیبہ ) إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ (الفاطر : 11) اسی رحمن کی طرف کلمات طیبہ (براہین احمد یہ ر۔خ۔جلد 1 صفحہ 661 حاشیہ ) صعود کرتے ہیں۔اس جگہ خدا تعالیٰ نے روح کا نام کلمہ رکھا۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ درحقیقت تمام ارواح کلمات اللہ ہی ہیں جو ایک لائیڈ رک بھید کے طور پر جس کی تہہ تک انسان کی عقل نہیں پہنچ سکتی روحیں بن گئی ہیں اسی بناء پر اس آیت کا مضمون بھی ہے وَ كَلِمَتُهُ الْقَيْهَا إِلى مَرْيَمَ اور چونکہ یہ سر ربوبیت ہے اس لئے کسی کی مجال نہیں کہ اس سے بڑھ کر کچھ بول سکے کہ کلمات اللہ ہی بحکم و باذن ربی لباس روح کا پہن لیتے ہیں اور ان میں وہ تمام طاقتیں اور تو تیں اور خاصیتیں پیدا ہو جاتی ہیں جو روحوں میں پائی جاتی ہیں اور پھر چونکہ ارواح طیبہ فنافی اللہ ہونے کی حالت میں اپنے تمام قولی چھوڑ دیتی ہیں اور اطاعت الہی میں فانی ہو جاتی ہیں تو گویا پھر وہ روح کی حالت سے باہر آ کر کلمتہ اللہ ہی بن جاتی ہیں جیسا کہ ابتداء میں وہ کلمتہ اللہ تھیں سو کلمتہ اللہ کے نام سے ان پاک روحوں کو یاد کرنا ان کے اعلیٰ درجہ کے کمال کی طرف اشارہ ہے سو انہیں نور کا لباس ملتا ہے اور اعمال صالحہ کی طاقت سے ان کا خدائے تعالیٰ کی طرف رفع ہوتا ہے اور ہمارے ظاہر بین علماء اپنے محدود خیالات کی وجہ سے کلمات طیبہ سے مراد محض عقائد یا اذکار و اشغال رکھتے ہیں اور اعمال صالحہ سے مراد بھی اذکار و خیرات وغیرہ ہیں تو گویا وہ اس تاویل سے علت اور معلول کو ایک کر دیتے ہیں اگر چہ کلمات طیبہ بھی خدا تعالیٰ کی طرف ہی رجوع کرتے ہیں لیکن عارفوں کے لئے یہ بطنی معنے ہیں جن پر قرآن کریم کے دقیق اشارات مشتمل ہیں۔(ازالہ او حام -ر خ- جلد 3 صفحہ 333-334) لباس تقوی کے معنوں میں اور دل کے معنوں میں قُمْ فَانْذِرُ۔وَرَبَّكَ فَكَبِّرُ۔وَثِيَابَكَ فَطَهِّرُ۔وَالرُّجْزَ فَاهْجُرُ۔(المدثر 3 تا 6) دریس اشارت است که بر دست اوبتان مقهور خواهند شد و جلال و عظمت الہی ظاہر خواہد شد واز پلیدی ها جدا باش۔ایں اشارت است که سوئے اینکه از ہر قسم پلیدی دور باید ماند و نیز سوئے ایں اشارت است که خدا اراده فرموده است که از صحبت مشرکاں کہ نجس اند تر اجدا کند و شرک را از زمین مکہ بردارد و جامہ ہائے خود او دل خود را پاک کن (شوب بمعنی دل نیز آمده) این اشارت است سوئے اینکه خدا اراده فرموده است که دلبار از هر تم شرک ظلم والتفات الى ماسوی اللہ پاک کند۔و نیز ایس ہم دریں آیت با اشاره می کنند که این شریعت بریں همه اجزا مشتمل است (لجه النور - ر - خ - جلد 16 صفحه 394) ( ترجمہ از مرتب ) ان آیات میں اشارہ ہے کہ آپ کے ہاتھ پر بت مشہور ہوں گے اور جلال اور عظمت الہی ظاہر ہوگی اور آپ پلیدی سے الگ ہو جائیں۔اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اس طرف آنے کے لئے ہر قسم کی پلیدی دور ہونی چاہیئے۔نیز اس طرف اشارہ ہے کہ خدا نے ارادہ فرمایا ہے مشرکوں کی مجلس سے کہ جو نا پاک ہیں تجھے الگ کر دیں گے اور مکہ کی سرزمین سے شرک مٹا دیا جائے گا اور اپنے لباس اور دل کو پاک کر ( ثوب کے معنے دل کے بھی ہیں) میں یہ اشارہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ دلوں کو ہر قسم کے شرک ظلم اور غیر اللہ کی طرف متوجہ ہونے سے پاک کر دیا جائے گا نیز ان آیات میں اس طرف اشارہ ہے کہ یہ شریعت ان تمام اجزاء پر مشتمل ہے۔