حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 698
698 ستارے اور ان کے گرنے سے مراد علماء ربانی ختم ہو جانا ہے وَإِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْ۔(الانفطار : 3) و اما انتشار الكواكب فهو اشارة الى فتن العلماء و ذهاب المتقين منهم كما انكم ترون ان اثار العلم قد امتحت وعفت والذين كانوا اوتوا العلم فبعضهم ماتوا و بعضهم عموا و صمواثم تاب الله عليهم ثم عمو ا وصموا و كثير منهم فاسقون و الله بصير بما يعملون۔ترجمہ از مرتب :۔ستاروں کے گرنے سے علماء کے فتنوں اور ان میں سے متقی لوگوں کے ختم ہو جانے کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ علم کے آثار کو ہو گئے ہیں اور مٹ گئے ہیں اور جن لوگوں کو علم عطا کیا گیا تھا ان میں سے بعض تو مر گئے ہیں اور بعض ان میں سے اندھے اور بہرے ہو گئے ہیں پھر اللہ تعالیٰ ان پر رجوع برحمت ہو الیکن پھر وہ اندھے اور بہرے ہو گئے اور اکثر ان میں سے فاسق ہیں اور اللہ تعالیٰ اس کو جو وہ کر رہے ہیں دیکھنے والا ہے۔( آئینہ کمالات اسلام -ر خ- جلد 5 صفحہ 473-474) ظلوم۔جہول کے معانی اِنَّا عَرَضْنَا الْامَانَةَ عَلَى السَّمَواتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَنْ يَحْمِلْنَهَا وَاَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا۔(الاحزاب: 73) إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ۔۔۔۔۔۔إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولاً یعنی ہم نے اپنی امانت کو جس سے مراد عشق محبت الہی اور مورد ابتلا ہو کر پھر پوری اطاعت کرنا ہے۔آسمان کے تمام فرشتوں اور زمین کی تمام مخلوقات اور پہاڑوں پر پیش کیا جو بظاہر قوی ہیکل چیزیں تھیں۔سوان سب چیزوں نے اس امانت کے اٹھانے سے انکار کر دی اور اس کی عظمت کو دیکھ کر ڈر گئیں مگر انسان نے اس کو اٹھالیا کیونکہ انسان میں یہ دوخو بیاں تھیں ایک یہ کہ وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے نفس پر ظلم کر سکتا تھا دوسری یہ خوبی کہ وہ خدائے تعالیٰ کی محبت میں اس درجہ تک پہنچ سکتا تھا جو غیر اللہ کو بکلی فراموش کر دے۔توضیح مرام - ر- خ - جلد 3 صفحہ 75-76)