حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 693
693 پہاڑ سے مراد مشکلات ہیں وَلَمَّا جَاءَ مُوسَى لِمِيقَاتِنَا وَكَلَّمَهُ رَبُّهُ قَالَ رَبِّ أَرِنِي أَنْظُرُ إِلَيْكَ قَالَ لَنْ تَرَينِي وَلَكِنِ انظُرُ إِلَى الْجَبَلِ فِإِن اسْتَقَرَّ مَكَانَهُ فَسَوْفَ تَرَينِي فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكَّا وَخَرَّ مُوسَى صَعِقًا فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ سُبْحَنَكَ کا۔تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ۔(الاعراف: 144) فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكَّا۔پس جب کہ خدا نے پہاڑ پر بجلی کی تو اس کو پاش پاش کر دیا۔یعنی مشکلات کے پہاڑ آسان ہوئے۔(براہین احمدیہ۔رخ - جلد 1 صفحہ 615,616 حاشیه در حاشیہ نمبر 3) جب خدا مشکلات کے پہاڑ پر تجلی کرے گا تو انہیں پاش پاش کر دے گا۔( براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 1 صفحه 665 حاشیه در حاشیہ نمبر (4) خلق کے معافی۔حضرت عیسی کا خلق حقیقی نہیں تھا۔اگر یہ وسواس دل میں گذرے کہ پھر اللہ جل شانہ نے مسیح ابن مریم کی نسبت اس قصہ میں جہاں پرندہ بنانے کا ذکر ہے تخلق کا لفظ کیوں استعمال کیا ہے جس کے بظاہر یہ معنی ہیں کہ تو پیدا کرتا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ حضرت عیسی کو خالق قرار دینا بطور استعارہ ہے جیسا کہ اس ددوسری آیت میں فرمایا ہے فَتَبَارَكَ اللهُ اَحْسَنُ الْخَالِقِينَ۔(المؤمنون: 15) بلاشبہ حقیقی اور سچا خالق خدا تعالیٰ ہے اور جولوگ مٹی یا لکڑی کے کھلونے بناتے ہیں وہ بھی خالق ہیں مگر جھوٹے خالق جن کے فعل کی اصلیت کچھ بھی نہیں۔(ازالہ اوھام۔۔۔خ۔جلد 3 صفحہ 260 حاشیہ) خدا کے ہاتھ سے مراد۔اس کے قادرانہ تصرفات ہیں وَقَالَتِ الْيَهُودُ يَدُ اللَّهِ مَغْلُولَةٌ غُلَّتْ أَيْدِيهِمْ وَ لُعِنُوا بِمَا قَالُوا بَلْ يَدَهُ مَبْسُوطَتَنِ يُنْفِقُ كَيْفَ يَشَآءُ۔(المائده : 65) یہود نے کہا کہ خدا کا ہاتھ باندھا ہوا ہے یعنی جو کچھ ہے انسان کی تدبیروں سے ہوتا ہے اور خدا اپنے قادرانہ تصرفات سے عاجز ہے سوخدا نے ہمیشہ کے لیے یہودیوں کے ہاتھ کو باندھ دیا ہے تا اگر ان کے فکر اور ان کی تدبیریں کچھ چیز ہیں تو ان کے زور سے دنیا کی حکومتیں اور بادشاہتیں حاصل کرلیں۔( براھین احمدیہ۔۔۔خ۔جلد 1 صفحہ 249 حاشیہ ) جیسا کہ اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے کہ خَلَقْتُ بِيَدَی یعنی آدم کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے پیدا کیا ہے۔ظاہر ہے کہ خدا کے ہاتھ انسان کی طرح نہیں ہیں۔پس دونوں ہاتھ سے مراد جمالی اور جلالی تجلی ہے۔پس اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ آدم کو جلالی اور جمالی تجلی کا جامع پیدا کیا گیا۔تحفہ گولڑویہ۔ر - خ - جلد 17 صفحہ 281-282 حاشیہ )