حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 694 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 694

694 دین کو تجارت سے تشبیہہ مال چونکہ تجارت سے بڑھتا ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے بھی طلب دین اور ترقی دین کی خواہش کو ایک تجارت ہی قرار دیا ہے چنانچہ فرمایا ہے هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيكُمُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ۔(الصف: 11) سب سے عمدہ تجارت دین کی ہے جو درد ناک عذاب سے نجات دیتی ہے۔پس میں بھی خدا تعالیٰ کے ان ہی الفاظ میں تمہیں یہ کہتا ہوں کہ هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيْكُمُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 142) رات اور دن سے انتشار ضلالت اور انتشار ہدایت مراد ہے وَجَعَلْنَا الَّيْلَ وَالنَّهَارَ ايَتَيْنِ فَمَحَوْنَا آيَةَ الَّيْلِ وَجَعَلْنَا آيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَلِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَ الْحِسَابَ وَكُلَّ شَيْءٍ فَصَّلْنَهُ تَفْصِيلًا۔(بنی اسرائیل: 13) ہم نے رات اور دن دو نشانیاں بنائی ہیں یعنی انتشار ضلالت جو رات سے مشابہ ہے اور انتشار ہدایت جو دن سے مشابہ۔رات جب اپنے کمال کو پہنچ جاتی ہے تو دن کے چڑھنے پر دلالت کرتی ہے اور دن جب اپنے کمال کو پہنچ جاتا ہے تو رات کے آنے کی خبر دیتا ہے سو ہم نے رات کا نشان محو کر کے دن کا نشان رہنما بنایا یعنی جب دن چڑھتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے اندھیرا تھا سو دن کا نشان ایسا روشن ہے کہ رات کی حقیقت بھی اسی سے کھلتی ہے اور رات کا نشان یعنی ضلالت کا زمانہ اس لئے مقرر کیا گیا کہ دن کے نشان یعنی انتشار ہدایت کی خوبی اور زیبائی اسی سے ظاہر ہوتی ہے کیونکہ خوبصورت کا قدرومنزلت بدصورت سے ہی معلوم ہوتا ہے اس لئے حکمت الہیہ نے یہی چاہا کہ ظلمت اور نور علی سبیل التبادل دنیا میں دور کرتے ر ہیں جب نو را اپنے کمال کو پہنچ جائے تو ظلمت قدم بڑھاوے اور جب ظلمت اپنے انتہائی درجہ تک پہنچ جائے تو پھر نو را پنا پیارا چہرہ دکھاوے۔سو استیلا ظلمت کا نور کے ظہور پر ایک دلیل ہے اور استیلا نور کا ظلمت کے آنے کا ایک سبیل ہے۔ہر کمال را زوالے مثل مشہور ہے۔سو اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب ظلمت اپنے کمال کو پہنچ گئی اور بر و بحر ظلمت سے بھر گئے تو ہم نے مطابق اپنے قانون قدیم کے نور کے نشان کو ظاہر کیا تا دانشمند لوگ قادر مطلق کی قدرت نمایاں کو ملاحظہ کر کے اپنے یقین اور معرفت کو زیادہ کریں۔(براہین احمدیہ -ر خ- جلد 1 صفحہ 635-637)