حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 692 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 692

692 اذَلِكَ خَيْرٌ نُزُلًا أَمْ شَجَرَةُ الزَّقُوْمِ o إِنَّا جَعَلْنَهَا فِسَةً لِلظَّلِمِينَ إِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِى اَصْلِ الْجَحِيمِ طَلْعُهَا كَأَنَّهُ رُءُ رُسُ الشَّيطِيْنِ (الصفت 63-66) جیسا کہ قرآن شریف نے عالم آخرت میں ایمان کے پاک درختوں کو انگور اور انار اور عمدہ عمدہ میووں سے مشابہت دی ہے اور بیان فرمایا ہے کہ اس روز وہ ان میووں کی صورت میں متمثل ہوں گے اور دکھائی دیں گے ایسا ہی بے ایمانی کے خبیث درخت کا نام عالم آخرت میں زقوم رکھا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے کہ اذلِكَ خَيْرٌ نُزُلًا أَمُ شَجَرَةُ الرَّقُومِ۔۔۔تم بتلاؤ کہ بہشت کے باغ اچھے ہیں یا زقوم کا درخت جو ظالموں کے لئے ایک بلا ہے۔وہ ایک درخت ہے جو جہنم کی جڑھ میں سے نکلتا ہے یعنی تکبر اور خود بینی سے پیدا ہوتا ہے۔یہی دوزخ کی جڑھ ہے اس کا شگوفہ ایسا ہے جیسا کہ شیطان کا سر شیطان کے معنے ہیں ہلاک ہونے والا۔یہ لفظ شیط سے نکلا ہے۔پس حاصل کلام یہ ہے کہ اس کا کھانا ہلاک ہونا ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی۔ر۔خ۔جلد 10 صفحہ 392) انبیاء کی بعثت کی بارش سے تشبیہہ وَالْبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهُ بِإِذْنِ رَبِّهِ وَالَّذِي خَبُثَ لَا يَخْرُجُ إِلَّا نَكِدًا كَذلِكَ نُصَرِّفُ الْأَيْتِ لِقَوْمٍ يَشْكُرُونَ۔(الاعراف: 59) قرآن شریف نے انبیاء ورسل کی بعثت کی مثال مینہ سے دی ہے وَالْبَلَدُ الطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهُ بِإِذْنِ رَبِّهِ وَالَّذِي خَبُثَ لَا يَخْرُجُ إِلَّا نَكِدًا۔تمثیل اسلام کی ہے جب کوئی رسول آتا ہے تو انسانی فطرتوں کے سارے خواص ظاہر ہو جاتے ہیں ان کے ظہور کا یہ خاصہ اور علامات ہیں۔کہ مخلص سعید الفطرت اور مستعد طبیعت کے لوگ اپنے اخلاص اور ارادت میں ترقی کرتے ہیں اور شریری شرارت میں بڑھ جاتے ہیں۔( ملفوظات جلد چہارم صفحه 422) وَهُوَ الَّذِى يُنَزِّلُ الْغَيْتَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُوا وَ يَنْشُرُ رَحْمَتَهُ وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيدُ۔(الشورى: 29) اللہ وہ ذات کامل الرحمت ہے کہ اس کا قدیم سے یہی قانون قدرت ہے کہ اس تنگ حالت میں وہ ضرور مینہ برساتا ہے کہ جب لوگ ناامید ہو چکتے ہیں پھر زمین پر اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے اور وہی کارساز حقیقی اور ظاہر و باطناً قابل تعریف ہے یعنی جب سختی اپنی نہایت کو پہنچ جاتی ہے اور کوئی صورت مخلصی کی نظر نہیں آتی تو اس صورت میں اس کا یہی قانون قدیم ہے کہ وہ ضرور عاجز بندوں کی خبر لیتا ہے اور ان کو ہلاکت سے بچاتا ہے اور جیسے وہ جسمانی سختی کے وقت رحم فرماتا ہے اسی طرح جب روحانی سختی یعنی ضلالت اور گمراہی اپنی حد کو پہنچ جاتی ہے اور لوگ راہ راست پر قائم نہیں رہتے تو اس حالت میں بھی وہ ضرور اپنی طرف سے کسی کو مشرف بوحی کر کے اور اپنے نور خاص کی روشنی عطا فرما کر ضلالت کی مہلک تاریکی کو اس کے ذریعہ سے اٹھاتا ہے۔(براہین احمدیہ - ر- خ - جلد 1 صفحہ 665-664)