حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 690
690 خدا تعالیٰ کی کتب میں نبی کے ماتحت امت کو عورت کہا جاتا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں ایک جگہ نیک بندوں کی تشبیہ فرعون کی عورت سے دی گئی ہے اور دوسری جگہ عمران کی بیوی سے مشابہت دی گئی ہے۔انا جیل میں بھی مسیح کو دولہا اور امت کو دلہن قرار دیا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ امت کے واسطے نبی کی ایسی ہی اطاعت لازم ہے جیسی کہ عورت کو مرد کی اطاعت کا حکم ہے۔بنی اسرائیل کے معانی ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 360-361) یبنی اسراءیل اذكروا نعمتي التي انعمت علیکم و اوفو ابعهدی اوف بعهدكم وایای فارهبون۔(البقرة: 41) بنی اسرائیل خدا تعالیٰ کا دیا ہوا لقب ہے اسرائیل کے معنے ہیں جو خدا سے بے وفائی نہیں کرتے اس کی اطاعت اور محبت کے رشتہ میں منسلک قوم حقیقی اور اصلی طور پر اسلام کے یہی معنے ہیں بہت سی پیشگوئیوں میں جو اسرائیل کا نام رکھا ہے۔یہ قلت فہم کی وجہ سے لوگوں کو سمجھ نہیں آئی ہیں اسرائیل سے مراد اسلام ہی ہے اور وہ پیشگوئیاں اسلام کے حق میں ہیں۔باک کلمات کی درختوں سے مشابہت ( ملفوظات جلد دوم صفحه 451) اَلَمْ تَرَكَيْفَ ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ ط وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ هِ تُؤْتِى أُكُلَهَا كُلَّ حِيْنِ بِإِذْنِ رَبِّهَا ، وَ يَضْرِبُ اللَّهُ الأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ۔(ابراهيم: 25-26) پاک کلمات پاک درختوں سے مشابہت رکھتے ہیں جن کی جڑھ مضبوط ہے اور شاخیں آسمان میں اور ہمیشہ اور ہر وقت تر و تازہ پھل دیتے ہیں۔سرمه چشم آریہ - ر-خ- جلد 2 صفحہ 158) کلمہ طیبہ درخت کی مثال ہے۔اب اس جگہ اللہ تعالیٰ نے کھول دیا کہ وہ ایمان جو ہے وہ بطور تخم اور شجر کے ہے اور اعمال جو ہیں وہ آبپاشی کی بجائے ہیں قرآن شریف میں کسان کی مثال ہے کہ جیسا وہ زمین میں تخمریزی کرتا ہے ویسا ہی یہ ایمان کی تخمریزی ہے۔وہاں آبپاشی ہے یہاں اعمال۔پس یا درکھنا چاہئے کہ ایمان بغیر اعمال کے ایسا ہے جیسے کوئی باغ بغیر انہار کے۔جو درخت لگایا جاتا ہے اگر مالک اس کی آبپاشی کی طرف توجہ نہ کرے تو ایک دن خشک ہو جائے گا اسی طرح ایمان کا حال ہے۔وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا (العنكبوت: 70) یعنی تم ہلکے ہلکے کام پر نہ رہو بلکہ اس راہ میں بڑے بڑے مجاہدات کی ضرورت ہے۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 649 مع حاشیہ )