حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 689 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 689

689 امانت سے مراد عشق الہی اور انسانی قومی إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَواتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَنْ يَحْمِلْنَهَا وَاَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْأَنْسَانُ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا۔(الاحزاب:73) إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَوَاتِ وَ الْاَرْضِ۔۔۔۔۔إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا۔یعنی ہم نے اپنی امانت کو جس سے مراد عشق محبت الہی اور مورد ابتلا ہو کر پھر پوری اطاعت کرنا ہے۔آسمان کے تمام فرشتوں اور زمین کی تمام مخلوقات اور پہاڑوں پر پیش کیا جو بظاہر قوی ہیکل چیزیں تھیں۔سو ان سب چیزوں نے اس امانت کے اٹھانے سے انکار کر دیا اور اس کی عظمت کو دیکھ کر ڈر گئیں مگر انسان نے اس کو اٹھا لیا کیونکہ انسان میں یہ دو خو بیاں تھیں ایک یہ کہ وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے نفس پر ظلم کر سکتا تھا دوسری یہ خوبی کہ وہ خدائے تعالیٰ کی محبت میں اس درجہ تک پہنچ سکتا تھا جو غیر اللہ کو بکلی فراموش کر دے۔توضیح مرام - رخ - جلد 3 صفحہ 75-76) إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الأمنتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمُ بِهِ إِنَّ اللهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا (النساء:59) امانت سے مراد انسان کامل کے وہ تمام قومی اور عقل اور علم اور دل اور جان اور حواس اور خوف اور محبت اور عزت اور وجاہت اور جمیع نعماء روحانی و جسمانی ہیں جو خدا تعالیٰ انسان کامل کو عطا کرتا ہے اور پھر انسان کامل برطبق آیت إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الامنتِ إِلَى اَهْلِهَا اس ساری امانت کو جناب الہی کو واپس دیدیتا ہے یعنی اس میں فانی ہو کر اس کے راہ میں وقف کر دیتا ہے۔۔۔اور یہ شان اعلیٰ اور اکمل اور اتم طور پر ہمارے سید ہمارے مولیٰ ہمارے ہادی نبی امی صادق مصدوق محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم میں پائی جاتی تھی۔( آئینہ کمالات اسلام - ر- خ - جلد 5 صفحہ 161-162 حاشیہ ) امت کی مثال عورت سے حضرت کرشن علیہ السلام کے متعلق فرمایا:۔ان کے متعلق جو گو پیوں کی کثرت مشہور ہے اصل میں ہمارے خیال میں بات یہ ہے کہ امت کی مثال عورت سے بھی دی جاتی ہے چنانچہ قرآن شریف سے بھی اس کی نظیر ملاتی ہے جیسا کہ فرماتا ہے ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ آمَنُوا امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ (التحریم: 12) یہ ایک نہایت ہی بار یک رنگ کا لطیف استعارہ ہوتا ہے۔امت میں جو ہر صلاحت ہوتا اور نبی اور امت کے تعلق سے بڑے بڑے حقائق معارف اور فیض کے چشمے پیدا ہوتے ہیں اور نبی اور امت کے بچے تعلق سے وہ نتائج پیدا ہوتے ہیں جن سے خدائی فیضان اور رحم کا جذب ہوتا ہے۔پس کرشن اور گوپیوں کے ظاہری قصہ کی تہہ میں ہمارے خیال میں یہی راز حقیقت پنہاں ہے۔(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 461)