حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 691
691 ایمان کی باغات کے ساتھ تشبیہہ اعمال کی نہر اور پانی کے ساتھ تشبیہ وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ أَنَّ لَهُمْ جَنْتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهرُ كُلَّمَا رُزِقُوا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِزْقًا قَالُوا هَذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَأتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا وَلَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُطَهَّرَةٌ وَّهُمْ فِيهَا خَلِدُونَ۔(البقرة: 26) یعنی جو لوگ ایمان لاتے اور اچھے عمل بجالاتے ہیں وہ ان باغوں کے وارث ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اس آیت میں خدا تعالیٰ نے ایمان کو باغ کے ساتھ مشابہت دی جس کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔پس واضح رہے کہ اس جگہ ایک اعلیٰ درجہ کی فلاسفی کے رنگ میں بتلایا گیا ہے کہ جو رشتہ نہروں کا باغ کے ساتھ ہے وہی رشتہ اعمال کا ایمان کے ساتھ ہے پس جیسا کہ کوئی باغ بغیر پانی کے سرسبز نہیں رہ سکتا ایسا ہی کوئی ایمان بغیر نیک کاموں کے زندہ ایمان نہیں کہلا سکتا اگر ایمان ہو اور اعمال نہ ہوں تو وہ ایمان بیچ ہے اور اگر اعمال ہوں اور ایمان نہ ہو تو وہ اعمال ریا کاری ہیں اسلامی بہشت کی یہی حقیقت ہے کہ وہ اس دنیا کے ایمان اور عمل کا ایک ظل ہے وہ کوئی نئی چیز نہیں جو باہر سے آکر انسان کو ملے گی بلکہ انسان کی بہشت انسان کے اندر سے ہی نکلتی ہے اور ہر ایک کی بہشت اسی کا ایمان اور اسی کے اعمال صالحہ ہیں جن کی اسی دنیا میں لذت شروع ہو جاتی ہے اور پوشیدہ طور پر ایمان اور اعمال کے باغ نظر آتے ہیں۔اور نہریں بھی دکھائی دیتی ہیں لیکن عالم آخرت میں یہی باغ کھلے طور پر محسوس ہوں گے خدا کی پاک تعلیم ہمیں یہی بتلاتی ہے کہ سچا اور پاک اور متحکم اور کامل ایمان جو خدا اور اس کی صفات اور اس کے ارادوں کے متعلق ہو وہ بہشت خوش نما اور بار آور درخت ہے اور اعمال صالحہ اس بہشت کی نہریں ہیں۔اسلامی اصول کی فلاسفی۔رخ۔جلد 10 صفحہ 390) پلید کلمہ کی خبیث درخت سے مشابہت وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةٍ اجْتَتَّتُ مِنْ فَوْقِ الْأَرْضِ مَالَهَا مِنْ قَرَارٍ۔(ابراهيم: 27) پلید کلمہ اس درخت کے ساتھ مشابہ ہے جو زمین میں سے اکھڑا ہوا ہو یعنی فطرت انسانی اس کو قبول نہیں کرتی اور کسی طور سے وہ قرار نہیں پکڑتا۔نہ دلائل عقلیہ کے رو سے نہ کچھ قانون قدرت کی رو سے نہ کانشنس کی رو سے صرف قصہ اور کہانی کے رنگ میں ہوتا ہے اور جیسا کہ قرآن شریف نے عالم آخرت میں ایمان کے پاک درختوں کو انگور اور انار اور عمدہ عمدہ میووں سے مشابہت دی ہے اور بیان فرمایا ہے کہ اس روز وہ ان میووں کی صورت میں متمثل ہوں گے اور دکھائی دیں گے۔ایسا ہی بے ایمانی کے خبیث درخت کا نام عالم آخرت میں زقوم رکھا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے اذلِكَ خَيْرٌ نُزُلًا أَمْ شَجَرَةُ الزَّقُوْمِ۔(الصَّقْت: 63) (اسلامی اصول کی فلاسفی۔رخ۔جلد 10 صفحہ 392-391)