حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 550
550 وہ جب تک کسی کو چاہے رکھے۔ہر ایک چیز فناء ہو جانے والی ہے باقی رہنے والی ذات صرف خدا کی ہی ہے روح میں جبکہ ترقی بھی ہوتی ہے اور تنزل بھی ہوتا ہے تو پھر اس کو ہمیشہ کے واسطے قیام کس طرح ہو سکتا ہے۔جب تک روح کا قیام ہے وہ امرالہی کے قیام کے نیچے ہے۔خدا کے امر کے ماتحت ہی کسی کا قیام ہوسکتا ہے اور وہی فناء بھی کرتا ہے۔وہ ہمیشہ خالق بھی ہے اور ہمیشہ خلق کو مٹاتا بھی ہے۔مسلمان قدامت کا قائل ہے مگر قدامت نوعی کا نہ کہ قدامت شخصی کا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ پہلے کیا چیزیں تھیں اور کیا نہ تھیں۔اگر اس کے برخلاف قدامت شخصی کا عقیدہ رکھا جاوے تو وہ دہریت میں داخل ہونا ہوتا ہے۔صحت مند جسم میں صحت مند روح ہوتی ہے ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 87) وَ مِنْكُمْ مَّنْ يُتَوَفَّى وَ مِنْكُمْ مَّنْ يُرَدُّ إِلى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ مِنْ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئًا۔(الحج: 6) ہم بالکل نہیں سمجھ سکتے کہ وہ ہماری روح جو جسم کے ادنی ادنی خلل کے وقت بیکار ہوکر بیٹھ جاتی ہے وہ اس روز کیونکر کامل حالت پر رہے گی جبکہ بالکل جسم کے تعلقات سے محروم کی جائے گی۔کیا ہر روز ہمیں تجر بہ نہیں سمجھا تا کہ روح کی صحت کے لئے جسم کی صحت ضروری ہے۔جب ایک شخص ہم میں سے پیر فرتوت ہو جاتا ہے تو ساتھ ہی اس کی روح بھی بڑھی ہو جاتی ہے۔اس کا تمام علمی سرمایہ بڑھاپے کا چور چرا کر لے جاتا ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔لِكَيْلا يَعْلَمَ مِنْ بَعْدِ عِلْمٍ شَيْئًا۔(الحج: 6) یعنی انسان بڑھا ہو کر ایسی حالت تک پہنچ جاتا ہے کہ پڑھ پڑھا کر جاہل بن جاتا ہے پس ہمارا یہ مشاہدہ اس بات پر کافی دلیل ہے کہ روح بغیر جسم کے کچھ چیز نہیں۔اسلامی اصول کی فلاسفی - رخ۔جلد 10 صفحہ 404) روح سے ملاقات یہ بات ممکن تو ہے کہ کشفی طور سے روحوں سے انسان مل سکتا ہے مگر اس امر کے حصول کے واسطے ریاضات شاقہ اور مجاہدات سخت کی اشد ضرورت ہے۔ہم نے خود آزمایا ہے اور تجربہ کیا ہے اور بعض اوقات روحوں سے ملاقات کر کے باتیں کی ہیں۔انسان ان سے بعض مفید مطلب امور اور دوائیں وغیرہ بھی دریافت کر سکتا ہے۔ہم نے خود حضرت عیسی کی روح اور آنحضرت اور بعض صحابہ کرام سے بھی ملاقات کی ہے اور اس معاملہ میں صاحب تجربہ ہیں لیکن انسان کے واسطے مشکل یہ ہے کہ جب تک اس راہ میں مشق اور قاعدہ کی پابندی سے مجاہدات نہیں کرتا یہ امر حاصل نہیں ہو سکتا۔اور چونکہ ہر ایک کو یہ امر میسر بھی نہیں آ سکتا اس واسطے اس کے نزدیک یہ ایک قصہ کہانی ہی ہوتی ہے اور اس میں حقیقت نہیں ہوتی۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 626)