حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 549 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 549

549 روح قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي (بنی اسرائیل : 86) روح کی تعریف غور کرنا چاہئے کہ ان آیات شریفہ متذکرہ بالا کا کیسا مطلب صاف صاف تھا کہ کفار کی ایک جماعت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روح کے بارے میں سوال کیا کہ روح کیا چیز ہے تب ایسی جماعت کو جیسا کہ صورت موجود تھی بصیغہ جمع مخاطب کر کے جواب دیا گیا کہ روح عالم امر میں سے ہے یعنی کلمتہ اللہ یا طل کلمہ ہے جو بحکمت و قدرت الہی روح کی شکل پر وجود پذیر ہو گیا ہے اور اس کو خدائی سے کچھ حصہ نہیں بلکہ وہ درحقیقت حادث اور بندہ خدا ہے اور یہ قدرت ربانی کا ایک بھید دقیق ہے جس کو تم اے کا فرو مجھ نہیں سکتے مگر کچھ تھوڑ اسا جس کی وجہ سے تم مکلف بایمان ہو تمہاری عقلیں بھی دریافت کر سکتی ہیں۔یہ ایک بڑی بھاری صداقت کا بیان ہے اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ ربوبیت الہی دوطور سے نا پیدا چیزوں کو پیدا کرتی ہے اور دونوں طور کے پیدا کرنے میں پیدا شدہ چیزوں کے الگ الگ نام رکھے جاتے ہیں۔جب خدائے تعالیٰ کسی چیز کو اس طور سے پیدا کرے کہ اس چیز کا کچھ بھی وجود نہ ہو تو ایسے پیدا کرنے کا نام اصطلاح قرآنی میں امر ہے اور اگر ایسے طور سے کسی چیز کو پیدا کرے کہ پہلے وہ چیز کسی اور صورت میں اپنا وجود رکھتی ہو تو اس طر ز پیدائیش کا نام خلق ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ بسیط چیز کا عدم محض سے پیدا کرنا عالم امر میں سے ہے اور مرکب چیز کو کسی شکل یا ہیئت خاص سے متشکل کرنا عالم خلق سے ہے جیسے اللہ تعالیٰ دوسرے مقام میں قرآن شریف میں فرماتا ہے اَلا لَهُ الْخَلْقُ وَالأمْرُ (الاعراف : 55) یعنی بسائط کا عدم محض سے پیدا کرنا اور مرکبات کو ظہور خاص میں لا نا دونوں خدا کے فعل ہیں اور بسیط اور مرکب دونوں خدائے تعالیٰ کی پیدائش ہے۔سرمه چشم آریہ۔ر۔خ۔جلد 2 صفحہ 176-173) روح فانی ہے روحوں اور اجزاء صغار عالم کا غیر مخلوق اور قدیم اور انادی ہونا اصول آریہ سماج کا ہے اور یہ اصول صریح خلاف عقل ہے اگر ایسا ہو تو پر میشر کی طرح ہر ایک چیز واجب الوجود ٹھہر جاتی ہے اور خدائے تعالیٰ کے وجود پر کوئی دلیل قائم نہیں رہتی بلکہ کاروبار دین کا سب کا سب ابتر اور خل پذیر ہو جاتا ہے کیونکہ اگر ہم سب کے سب خدائے تعالی کی طرح غیر مخلوق اور انادی ہی ہیں تو پھر خدائے تعالیٰ کا ہم پر کونسا حق ہے اور کیوں وہ ہم سے اپنی عبادت اور پرستش اور شکر گذاری چاہتا ہے اور کیوں گناہ کرنے سے ہم کو سزا دینے کو طیار ہوتا ہے اور جس حالت میں ہماری روحانی بینائی اور روحانی تمام قو تیں خود بخود دقدیم سے ہیں تو پھر ہم کو فانی قوتوں کے پیدا ہونے کے لئے کیوں پر میشر کی حاجت ٹھہری۔سرمه چشم آریہ۔ر- خ- جلد 2 صفحہ 110)