حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 538
538 اسی وجہ سے مسیح ایک طور سے آپ ہی کا رُوپ ہے اور وہ معراج یعنی بلوغ نظر کشفی دنیا کی انتہا تک تھا جو مسیح کے زمانہ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس معراج میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسجد الحرام سے مسجد اقصی تک سیر فرما ہوئے وہ مسجد اقصی یہی ہے جو قادیان میں بجانب مشرق واقع ہے جس کا نام خدا کے کلام نے مبارک رکھا ہے۔یہ مسجد جسمانی طور پر مسیح موعود کے حکم سے بنائی گئی ہے اور روحانی طور پر مسیح موعود کے برکات اور کمالات کی تصویر ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بطور موہبت ہیں اور جیسا کہ مسجد الحرام کی روحانیت حضرت آدم اور حضرت ابراہیم کے کمالات ہیں اور بیت المقدس کی روحانیت انبیاء بنی اسرائیل کے کمالات ہیں ایسا ہی مسیح موعود کی یہ مسجد اقصی جس کا قرآن شریف میں ذکر ہے اس کے روحانی کمالات کی تصویر ہے۔آنحضرت کے معراج کی تین اقسام (خطبہ الہامیہ۔رخ۔جلد 16 صفحہ 22-21 حاشیہ ) خلاصہ کلام یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج تین قسم پر منقسم ہے۔سیر مکانی اور سیر زمانی اور سیر لا مکانی ولا زمانی۔سیر مکانی میں اشارہ ہے طرف غلبہ اور فتوحات کے یعنی یہ اشارہ کہ اسلامی ملک مکہ سے بیت المقدس تک پھیلے گا اور سیر زمانی میں اشارہ ہے طرف تعلیمات اور تاثیرات کے یعنی یہ کہ مسیح موعود کا زمانہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تاثیرات سے تربیت یافتہ ہوگا جیسا کہ قرآن میں فرمایا ہے وَاخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (الجمعة: 4) اور سیر لامکانی ولا زمانی میں اشارہ ہے طرف اعلیٰ درجہ کے قرب اللہ اور مدانات کی جس پر دائرہ امکان قرب کا ختم ہے۔(خطبہ الہامیہ۔ر۔خ۔جلد 16 صفحہ 26 حاشیہ)