حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 537 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 537

537 معراج آنحضرت کا روحانی مقام تھا معراج انقطاع تام تھا اور ستر اس میں یہ تھا کہ تا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نفقط نفسی کو ظاہر کیا جاوے آسمان پر ہر ایک روح کے لئے ایک نقطہ ہوتا ہے اس سے آگے وہ نہیں جاتی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نفق نفسی عرش تھا اور رفیق اعلیٰ کے معنے بھی خدا ہی کے ہیں۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر اور کوئی معزز و مکرم نہیں ہے۔معراج مکانی اور زمانی ( ملفوظات جلد اول صفحه 396) سُبْحَنَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الا قُصَى الَّذِي بَرَكْنَا حَوْلَهُ۔(بنی اسرائیل :2) قرآن شریف کی یہ آیت معراج مکانی اور زمانی دونوں پر مشتمل ہے اور بغیر اس کے معراج ناقص پرمش رہتا ہے۔پس جیسا کہ سیر مکانی کے لحاظ سے خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد الحرام سے بیت المقدس تک پہنچادیا تھا ایسا ہی سیر زمانی کے لحاظ سے آنجناب کو شوکت اسلام کے زمانہ سے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تھا برکات اسلامی کے زمانہ تک جو مسیح موعود کا زمانہ ہے پہنچا دیا۔پس اس پہلو کے رو سے جو اسلام کے انتہاء زمانہ تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سیر کشفی ہے۔مسجد اقصٰی سے مراد مسیح موعود کی مسجد ہے جو قادیان میں واقع ہے جس کی نسبت براہین احمدیہ میں خدا کا کلام یہ ہے۔مُبَارَكَ وَ مُبَارَكَ وَ كُلُّ اَمْرٍ مُّبَارَكٌ يُجْعَلُ فِيْهِ اور یہ مبارک کا لفظ جو بصیغہ مفعول اور فاعل واقع ہوا قرآن شریف کی آیت بَارَكْنَا حَوْلَهُ کے مطابق ہے۔پس کچھ شک نہیں جو قرآن شریف میں قادیان کا ذکر ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے سُبُحْنَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الَا قُصَى الَّذِي بَرَكْنَا حَوْلَہ اس آیت کے ایک تو وہی معنے ہیں جو علماء میں مشہور ہیں یعنی یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مکانی معراج کا یہ بیان ہے مگر کچھ شک نہیں کہ اس کے سوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک زمانی معراج بھی تھا جس سے یہ غرض تھی کہ تا آپ کی نظر کشفی کا کمال ظاہر ہواور نیز ثابت ہو کہ مسیحی زمانہ کے برکات بھی درحقیقت آپ ہی کے برکات ہیں جو آپ کی توجہ اور ہمت سے پیدا ہوئی ہیں