حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 539
539 چھٹی فصل جنت دوزخ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عمل والے کو میں کس طرح جزاء دوں گا فَأَمَّا مَنْ طَغَى۔وَاثَرَ الْحَيَوةَ الدُّنْيَا فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأوى (الشرعت 40-38) جو شخص میرے حکموں کو نہیں مانے گا میں اس کو بہت بُری طرح سے جہنم میں ڈالوں گا اور ایسا ہو کہ آخر جہنم تمہاری جگہ ہوگی۔وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى۔فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى الترعت (42-41) اور جو شخص میری عدالت کے تخت کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرے گا اور خیال رکھے گا تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اس کا ٹھکانہ جنت میں کروں گا۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 371) تعریف جنت دوزخ رحم الہی کی تجلی عظمی راست بازوں اور ایمان داروں پر ایک جدید طور سے لذات کاملہ کی بارش کر کے اور تمام سامان بہشتی زندگی کا حسی اور جسمانی طور پر ان کو دکھلا کر اس نئے طور کے دارالسلام میں ان کو داخل کر دے گی۔ایسا ہی خدا تعالیٰ کی قہری تجلی جہنم کو بھی بعد از حساب اور الزام صریح کے نئے رنگ میں دکھلا کر گویا جہنمی لوگوں کو نئے سرے جہنم میں داخل کرے گی۔روحانی طور پر بہشتیوں کا بلا توقف بعد موت کے بہشت میں داخل ہو جانا اور دوزخیوں کا دوزخ میں گرایا جانا متواتر قرآن شریف اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔(ازالہ اوہام - ر-خ- جلد 3 صفحہ (279) يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ مَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَّصُوحًا عَسَى رَبُّكُمْ أَنْ يُكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيَاتِكُمْ وَ يُدْخِلَكُمْ جَنَّتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهرُ۔۔۔۔التحريم: 9) اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن شریف کی رو سے دوزخ اور بہشت دونوں اصل میں انسان کی زندگی کے اظلال اور آثار ہیں کوئی ایسی نئی جسمانی چیز نہیں ہے کہ جو دوسری جگہ سے آوے۔یہ بیچ ہے کہ وہ دونوں جسمانی طور سے متمثل ہوں گے مگر وہ اصل روحانی حالتوں کے اظلال و آثار ہوں گے۔ہم لوگ ایسی بہشت کے قائل نہیں کہ صرف جسمانی طور پر ایک زمین پر درخت لگائے گئے ہوں اور نہ ایسی دوزخ کے ہم قائل ہیں جس میں در حقیقت گندھک کے پتھر ہیں مگر اسلامی عقیدہ کے موافق بہشت دوزخ انہی اعمال کے انعکا سات ہیں جو دنیا میں انسان کرتا ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی - ر - خ - جلد 10 صفحہ 414-413)