حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 508
508 خود قرآن شریف میں ان لڑائیوں کی یہ وجہ صاف لکھی ہے۔أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ۔الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقِّ یعنی ان لوگوں کو مقابلہ کی اجازت دی گئی جن کے قتل کے لئے مخالفوں نے چڑھائی کی (اس لئے اجازت دی گئی ) کہ ان پر ظلم ہو ااور خدا تعالیٰ مظلوم کی حمایت کرنے پر قادر ہے۔یہ وہ مظلوم ہیں جو ناحق اپنے وطنوں سے نکالے گئے۔ان کا گناہ بجز اس کے اور کوئی نہ تھا کہ انہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے۔یہ وہ آیت ہے جس سے اسلامی جنگوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔پھر جس قدر رعایتیں اسلامی جنگوں میں دیکھو گے ممکن نہیں کہ موسوی یا یشوعی لڑائیوں میں اس کی نظیر مل سکے۔موسوی لڑائیوں میں لاکھوں بے گناہ بچوں کا مارا جانا بوڑھوں اور عورتوں کا قتل باغات اور درختوں کا جلا کر خاک سیاہ کر دینا تو رات سے ثابت ہے مگر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باوصفیکہ ان شریروں سے وہ سختیاں اور تکلیفیں دیکھی تھیں جو پہلے کسی نے نہ دیکھی تھیں پھر ان دفاعی جنگوں میں بھی بچوں کو قتل نہ کرنے، عورتوں اور بوڑھوں کو نہ مارنے راہبوں سے تعلق نہ رکھنے اور کھیتوں اور شمر دار درختوں کو نہ جلانے اور عبادت گاہوں کے مسمار نہ کرنے کا حکم دیا جاتا تھا۔اب مقابلہ کر کے دیکھ لو کہ کس کا پلہ بھاری ہے۔اسلامی جنگیں بالکل دفاعی لڑائیاں تھیں۔جب کفار کی تکالیف اور شرارتیں حد سے گذر گئیں تو خدا (تعالی) نے ان کو سزا دینے کے لئے یہ حکم دیا مگر عیسائیوں نے جو مختلف اوقات میں مذہب کے نام سے لڑائیاں کی ہیں ان کے پاس خدا تعالیٰ کی کونسی دستاویز اور حکم تھا جس کی رو سے وہ لڑتے تھے ان کو تو ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 72-71) پھیر دینے کا حکم تھا۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 437) مسلمان مظلوم تھے ان کی طرف سے ابتداء نہیں ہوئی تھی بلکہ بانی فساد کفار مکہ تھے۔ایسی حالت میں بھی جب ان کی شرارتیں انتہائی درجہ تک جا پہنچیں تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو مدافعت کے واسطے مقابلہ کرنے کا حکم دیا۔پس یہ اعتراض محض فضول اور لغو ہے کہ وہ لڑائیاں مذہب کے لئے تھیں۔اگر محض مذہب کے لئے ہوتیں تو جزیہ دینے کی صورت میں ان کو کیوں چھوڑا جاتا۔پھر میں کہتا ہوں کہ عیسائی تو اس قسم کا اعتراض کر ہی نہیں سکتے۔وہ اپنے گھر میں دیکھیں کہ اسلامی لڑائیاں موسوی لڑائیوں سے زیادہ ہیں؟ اور جبکہ وہ حضرت عیسی کو موسیٰ علیہ السلام کا بھی (معاذ اللہ ) خدا مانتے ہیں تو پھر ان لڑائیوں کا الزام عیسائیوں پر بدستور قائم ہے خصوصاً ایسی حالت میں کہ وہ لڑائیاں اسلامی جنگوں سے زیادہ سخت اور خون ریز تھیں۔اسلامی لڑائیوں میں بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کا لحاظ کیا جا تا تھا اور ان کوقتل نہیں کیا جاتا تھا مگر موسوی لڑائیوں میں تو ان امور کی پرواہ نہیں کی جاتی تھی۔ایسا ہی اسلامی جنگوں میں مذہبی عبادت گاہوں اور پھلدار درختوں کو بھی ضائع نہیں کیا جاتا تھا مگر موسوی لڑائیوں میں پھلدار درخت تباہ کر دیئے جاتے۔غرض اسلامی جنگ موسوی لڑائیوں کے مقابلہ میں کچھ چیز ہی نہیں۔( ملفوظات جلد چہارم صفحه 677-476)