حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 507
507 اللہ تعالیٰ بعض مصالح کے رُو سے ایک فعل کرتا ہے اور آئندہ جب وہ فعل معرض اعتراض ٹھہرتا ہے تو پھر وہ فعل نہیں کرتا۔اولاً ہمارے رسول اکرم ﷺ نے کوئی تلوار نہ اٹھائی مگر ان کو سخت سے سخت تکالیف برداشت کرنی پڑیں۔تیرہ سال کا عرصہ۔اس لیے عرصہ میں کوئی یا کسی رنگ کی تکلیف نہ تھی جو اٹھانی نہ پڑی ہو۔آخر کار وطن سے نکلے تو تعاقب ہوا۔دوسری جگہ پناہ لی۔تو دشمن نے وہاں بھی نہ چھوڑا۔جب یہ حالت ہوئی تو مظلوموں کو ظالموں کے ظلم سے بچانے کے لئے حکم ہوا۔أَذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَ إِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ۔وَالَّذِيْنَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍ إِلَّا اَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللهُ (الحج: (40-41) کہ جن لوگوں کے ساتھ لڑائیاں خواہ مخواہ کی گئیں اور گھروں سے ناحق نکالے گئے صرف اس لئے کہ انہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے سو یہ ضرورت تھی کہ تلوار اٹھائی گئی۔والا حضرت کبھی تلوار نہ اٹھاتے۔ہاں ہمارے زمانہ میں ہمارے برخلاف قلم اٹھائی گئی۔قلم سے ہم کو اذیت دی گئی اور سخت ستایا گیا اس لئے اس کے مقابل قلم ہی ہمارا حربہ بھی ہے۔(ملفوظات۔جلداول صفحہ 28-27) اسلام کے جہاد پر اعتراضات کا جواب اگر تلوار کے ذریعہ سے خدا کا عذاب نازل ہو نا خدا کی صفات کے مخالف ہے تو کیوں نہ یہ اعتراض اول موسیٰ سے ہی شروع کیا جائے جس نے قوموں کو قتل کر کے خون کی نہریں بہادیں اور کسی کی تو بہ کو بھی قبول نہ کیا۔قرآنی جنگوں نے تو تو بہ کا دروازہ کھلا رکھا۔جو عین قانون قدرت اور خدا کے رحم کے موافق ہے کیونکہ اب بھی جب خدا تعالی طاعون اور ہیضہ وغیرہ سے اپنا عذاب دنیا پر نازل کرتا ہے تو ساتھ ہی طبیبوں کو ایسی ایسی بوٹیاں اور تدبیروں کا بھی علم دے دیتا ہے جس سے اس آتش وباء کا انسداد ہو سکے۔سو یہ موسیٰ کے طریق جنگ پر اعتراض ہے کہ ان میں قانوں قدرت کے موافق کوئی طریق بچاؤ قائم نہیں کیا گیا۔ہاں بعض بعض جگہ قائم بھی کیا گیا ہے مگر کلی طور پر نہیں۔الغرض جبکہ یہ سنت اللہ یعنی تلوار سے ظالم منکروں کو ہلاک کرنا قدیم سے چلی آتی ہے تو قرآن شریف پر کیوں خصوصیت کیساتھ اعتراض کیا جاتا ہے؟ کیا موسیٰ کے زمانہ میں خدا کوئی اور تھا؟ اور اسلام میں کوئی اور ہو گیا؟ یا خدا کو اس وقت لڑائیاں پیاری لگتی تھیں اور اب بری دکھائی دیتی ہیں؟ اور یہ بھی فرق یادر ہے کہ اسلام نے صرف ان لوگوں کے مقابل پر تلوار اٹھا نا حکم فرمایا ہے کہ جو اول آپ تلوار اُٹھا ئیں۔اور انہیں کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے جو اول آپ قتل کریں۔یہ حکم ہرگز نہیں دیا کہ تم ایک کافر بادشاہ کے تحت میں ہو کر اور اس کے عدل اور انصاف سے فائدہ اٹھ کر پھر اسی پر باغیانہ حملہ کرو۔قرآن کے رو سے یہ بدمعاشوں کا طریق ہے نہ نیکوں کا۔لیکن توریت نے یہ فرق کسی جگہ نہیں کھول کر بیان نہیں فرمایا۔اس سے ظاہر ہے کہ قرآن شریف اپنے جلالی اور جمالی احکام میں اس خط مستقیم عدل اور انصاف اور رحم اور احسان پر چلتا ہے۔جس کی نظیر دنیا میں کسی کتاب میں موجود نہیں۔انجام آتھم۔رخ - جلد 11 صفحہ 37)