حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 24 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 24

24 محدث اپنے نبی ، متبوع کا پورا اہمرنگ ہوتا ہے وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلَّمَهُ اللهُ إِلَّا وَحْيَا أَوْمِنْ وَرَاى حِجَابٍ اَوْيُرْسِلَ رَسُوْلًا فَيُوْحِ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ (الشورى: 52) ط صاحب وحی محد ثیت اپنے نبی متبوع کا پورا ہمر رنگ ہوتا ہے اور بغیر نبوت اور تجدیدا حکام کے وہ سب باتیں اس کو دی جاتی ہیں جو نبی کو دی جاتی ہیں اور اس پر یقینی طور پر سچی تعلیم ظاہر کی جاتی ہے اور نہ صرف اسی قدر بلکہ اس پر وہ سب امور بطور انعام واکرام کے وارد ہو جاتے ہیں جو نبی متبوع پر وارد ہوتے ہیں سوان کا بیان محض اٹکلیں نہیں ہوتیں بلکہ وہ دیکھ کر کہتا ہے اور سن کر بولتا ہے اور یہ راہ اس امت کیلئے کھلی ہے۔ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا کہ وارث حقیقی کوئی نہ رہے۔بركات الدعا ر خ جلد 6 صفحه 21-20 کیا عام لفظوں میں کسی حدیث میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ بعض گذشتہ رسولوں میں سے پھر اس امت میں آئیں گے جیسا کہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ ان کے مثیل آئیں گے اور امثل آئیں گے جو فطر تا انبیاء سے بہت اقرب ہیں سو جن کے آنے کا صاف طور پر بلا تعارض وعدہ دیا گیا ہے ان سے منہ مت پھیرو اور ان کے الہام سے بھی شہادت کا فائدہ اٹھاؤ کیونکہ ان کی گواہی اس بات کو کھولتی ہے جو تم اپنی عقلوں سے نہیں کھول سکتے آسمانی گواہی کے رد کرنے میں جرات نہ کرو کیونکہ یہ بھی اسی پاک چشمہ سے نکلی ہے جس سے وحی نبوت نکلی ہے۔سو یہ وحی کے معنی کی شارح اور صراط مستقیم کو دکھلانے والی ہے۔غرض قرآن ایسی مجمل کتاب نہیں جو کبھی اور کسی صورت میں معیار کا کام نہ دے سکے۔جس کا ایسا خیال (ازالہ اوہام۔رخ جلد 3 صفحہ 381-380) ہے بے شک وہ سخت نادان ہے۔بلکہ ایمان اس کا خطرہ کی حالت میں ہے اور حدیث انی اوتیت الکتاب و مثله سے آپ کے خیال کو کیا مدد پہنچ سکتی ہے؟ آپ کو معلوم نہیں کہ وحی متلو کا خاصہ ہے جو اس کے ساتھ تین چیزیں ضرور ہوتی ہیں خواہ وہ وحی رسول کی ہو یا نبی کی یا محدث کی۔اول۔مکاشفات صحیحہ جو اخبارات اور بیانات وحی کو کشفی طور پر ظاہر کرتے ہیں۔گویا خبر کو معائنہ کر دیتے ہیں۔جیسا کہ ہمارے نبی ﷺ کو وہ بہشت اور دوزخ دکھلایا گیا جس کا قرآن کریم نے بیان کیا تھا۔اور ان گذشتہ رسولوں سے ملاقات کرائی گئی جن کا قرآن حمید میں ذکر کیا گیا تھا ایسا ہی بہت سی معاد کی خبر میں کشفی طور پر ظاہر کی گئیں۔تا وہ علم جو قرآن کے ذریعہ سے دیا گیا تھا۔زیادہ تر انکشاف پکڑے اور موجب طمانیت اور سکینت کا ہو جائے۔دوئم۔وحی متلو کے ساتھ رویائے صالحہ دی جاتی ہے جو بنی اور رسول اور محدث کیلئے ایک قسم کی وحی میں ہی داخل ہوتی ہے اور باوجود کشف کے رویا کی اس لئے ضرورت ہوتی ہے کہ تا علم استعارات کا جو رویا پر غالب ہے وحی یاب پر کھل جائے اور علوم تعبیر میں مہارت پیدا ہو اور تا کشف اور رویا اور وحی باعث تعدد طرق کے ایک دوسرے پر شاہد ہوں اور اس وجہ سے نبی اللہ کمالات اور معارف یقینیہ کی طرف ترقی رکھے۔