حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 23 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 23

23 چھٹے کشوف اور الہامات کا سلسلہ ہے جو امام الزمان کیلئے ضروری ہوتا ہے۔امام الزمان اکثر بذریعہ الہامات کے خدا تعالیٰ سے علوم اور حقائق اور معارف پاتا ہے۔اور اسکے الہامات دوسروں پر قیاس نہیں ہو سکتے۔کیونکہ وہ کیفیت اور کمیت میں اس اعلیٰ درجہ پر ہوتے ہیں جس سے بڑھ کر انسان کیلئے ممکن نہیں۔اور ان کے ذریعہ سے علوم کھلتے ہیں اور قرآنی معارف معلوم ہوتے ہیں۔اور دینی عقدے اور معضلات حل ہوتے ہیں اور اعلیٰ درجہ کی پیشگوئیاں جو مخالف قوموں پر اثر ڈال سکیں ظاہر ہوتی ہیں۔غرض جو لوگ امام الزمان ہوں انکے کشوف اور الہام صرف ذاتیات تک محدود نہیں ہوتی۔بلکہ نصرت دین اور تقویت ایمان کیلئے نہایت مفید اور مبارک ہوتے ہیں۔ضرورت الامام - رخ جلد 13 صفحہ 483) نبی کی ہر بات جو کامل توجہ سے کی جائے وہ وحی الہی کا رتبہ رکھتی ہے وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَواى O وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى o إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُواى o ذُومِرَّةٍ طَ فَاسْتَوَى (النجم :2 تا 7) نبی کے دل میں جو خیالات اٹھتے ہیں اور جو کچھ خواطر اس کے نفس میں پیدا ہوتی ہیں درحقیقت وہ تمام وحی ہوتی ہیں جیسا کہ قرآن کریم اس پر شاہد ہے وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى لیکن قرآن کی وحی دوسری وحی سے جو صرف معانی منجانب اللہ ہوتی ہیں تمیز کلی رکھتی ہے اور نبی کے اپنے تمام اقوال وحی غیر متلو میں داخل ہوتے ہیں کیونکہ روح القدس کی برکت اور چمک ہمیشہ نبی کے شامل حال رہتی ہے اور ہر یک بات اس کی برکت سے بھری ہوئی ہوتی ہے اور وہ برکت روح القدس سے اس کلام میں رکھی جاتی ہے لہذا ہر ایک بات نبی کی جو نبی توجہ ء تام سے اور اس کے خیال کی پوری مصروفیت سے اس کے منہ سے نکلتی ہے وہ بلاشبہ وحی ہوتی ہے تمام احادیث اس درجہ کی اور وجی میں داخل ہیں جن کو غیر متلووحی کہتے ہیں۔( آئینہ کمالات اسلام۔رخ جلد 5 صفحہ 353-352) مرا بکشن رضوان حق شدست گذر مقام من چمن قدس و اصطفا باشد اللہ تعالیٰ کی رضا کے باغ میں میرا گذر ہوا ہے میرا مقام برگزیدگی اور تقدس کا چمن ہے کمال پاکی و صدق و صفا که گم شده بود دوباره از سخن و وعظ من بیا باشد پاکیزگی اور صدق و صفا کا کمال جو معدوم ہو گیا تھا وہ دوبارہ میرے کلام اور وعظ سے قائم ہوا ہے مرنج از سخنم ایکه سخت بے خبری که اینکه گفته ام از وحی کبریا باشد اے وہ شخص جو بالکل بے خبر ہے میری بات سے ناراض نہ ہو کہ جو میں نے کہا ہے یہ خدا کی وحی سے کہا ہے کیسکہ گم شده از خود بنور حق پیوست هر آنچه از دهش بشنوی بجا باشد جو شخص اپنی خودی کو چھوڑ کر خدا کے نور میں جا ملا اس کے منہ سے نکلی ہوئی ہر بات حق ہو گی تریاق القلوب۔رخ جلد 15 صفحہ 134)