حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 25 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 25

25 25 سوئم۔وحی متلو کے ساتھ ایک خفی وحی عنایت ہوتی ہے جو تھہیمات الہیہ سے نامزد ہوسکتی ہے یہی وحی ہے جس کو وحی غیر متلو کہتے ہیں اور متصوفہ اس کا نام وحی خفی اور وحی دل بھی رکھتے ہیں اس وجی سے یہ غرض ہوتی ہے کہ بعض مجملات اور اشارات وحی متلو کے منزل علیہ پر ظاہر ہوں۔سو یہ وہ تینوں چیزیں ہیں جو آنحضرت ﷺ کیلئے اوتیت الکتاب کے ساتھ مثلہ کا مصداق ہیں۔اور ہر ایک رسول اور نبی اور محدث کو اس کی وحی کے ساتھ یہ تینوں چیزیں حسب مراتب اپنی اپنی حالت قرب کے دی جاتی ہیں۔چنانچہ اس بارے میں راقم تقریر ہذا صاحب تجربہ ہے یہ مویدات ثلثہ یعنی کشف اور رویا اور وحی خفی در اصل امور زائدہ نہیں ہوتے بلکہ وحی متلو کے جو متن کی طرح ہے مفسر اور مبین ہوتے ہیں۔فتدبر احل کے جوتن کی طرح سے مفسر اور مین ہوتے ہیں فقد بر الحق بحث لدھیانہ رخ جلد 4 صفحہ 109-108) انبیاء وحی الہی کے احکام کے بغیر کوئی تبلیغ تعلیم نہیں کرتے وَ كَذلِكَ اَوْ حَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِنْ اَمْرِنَا ط مَا كُنتَ تَدْرِى مَا الْكِتَبُ وَلَا الْإِيْمَانُ وَلَكِنْ جَعَلْنَهُ نُورًا نَّهْدِى بِهِ مَنْ نَشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا ط وَ إِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيم (الشورى:53) یا درکھو کہ ہر ایک نبی کو جب تک وحی نہ ہو وہ کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ ہر ایک چیز کی اصل حقیقت تو وحی الہی سے ہی کھلتی ہے۔یہی وجہ تھی جو آنحضرت ﷺ کو ارشاد ہوا مَا كُنتَ تَدْرِى مَا الْكِتَبُ وَلَا الْإِيمَانِ یعنی تو نہیں جانتا تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا چیز ہے؟ لیکن جب اللہ تعالیٰ کی وحی آپ پر ہوئی تو پھر وَ اُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ (یونس: 105) آپ کو کہنا پڑا۔اسی طرح آپ کے زمانہ وحی سے پیشتر مکہ میں بہت پرستی اور شرک ، فسق و فجور ہوتا تھا لیکن کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ وحی الہی کے آنے سے پہلے بھی آپ نے بتوں کے خلاف وعظ کیا اور تبلیغ کی تھی لیکن جب فَاصْدَعُ بِمَا تُو مَرُ (الحجر: 95) کا حکم ہوا تو پھر ایک سیکنڈ کی بھی دیر نہیں کی اور ہزاروں مشکلات اور مصائب کی بھی پرواہ نہیں کی۔بات یہی ہے کہ جب کسی امر کے متعلق وحی الہی آجاتی ہے تو پھر مامور اس کے پہنچانے میں کسی کی پرواہ نہیں کرتے اور اس کا چھپا نا اسی طرح شرک سمجھتے ہیں جس طرح وحی الہی سے اطلاع پانے کے بغیر کسی امر کی اشاعت شرک سمجھتے ہیں۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 392)