حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 498 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 498

498 محبت سے برداشت کی اور ان صابرانہ اور عاجزانہ روشوں سے مخالفوں کی شوخی دن بدن بڑھتی گئی اور انہوں نے اس مقدس جماعت کو اپنا ایک شکار سمجھ لیا تب اس خدا نے جو نہیں چاہتا کہ زمین پر ظلم اور بے رحمی حد سے گذر جائے اپنے مظلوم بندوں کو یاد کیا اور اس کا غضب شریروں پر بھڑ کا اور اس نے اپنی پاک کلام قرآن شریف کے ذریعہ سے مظلوم بندوں کو اطلاع دی کہ جو کچھ تمہارے ساتھ ہو رہا ہے میں سب کچھ دیکھ رہا ہوں۔میں تمہیں آج سے مقابلہ کی اجازت دیتا ہوں اور میں خدائے قادر ہوں ظالموں کو بے سزا نہیں چھوڑوں گا۔یہ حکم تھا جس کا دوسرے لفظوں میں جہاد نام رکھا گیا اور اس حکم کی اصل عبارت جو قرآن شریف میں اب تک موجود ہے یہ ہے۔اُذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرِ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍ یعنی خدا نے ان مظلوم لوگوں کی جو قتل کئے جاتے ہیں اور ناحق اپنے وطن سے نکالے گئے فریاد سن لی اور ان کو مقابلہ کی اجازت دی گئی اور خدا قادر ہے جو مظلوم کی مدد کرے مگر یہ حکم مشخص الزمان والوقت تھا۔ہمیشہ کے لئے نہیں تھا بلکہ اس زمانہ کے متعلق تھا جبکہ اسلام میں داخل ہونے والے بکریوں اور بھیڑوں کی طرح ذبح کئے جاتے تھے۔گورنمنٹ انگریزی اور جہاد۔رخ۔جلد 17 صفحہ 6-5) ہم بار ہا لکھ چکے ہیں کہ قرآن شریف ہرگز جہاد کی تعلیم نہیں دیتا۔اصلیت صرف اس قدر ہے کہ ابتدائی زمانہ میں بعض مخالفوں نے اسلام کو تلوار سے روکنا بلکہ نابود کرنا چاہا تھا۔سوا سلام نے اپنی حفاظت کے لئے ان پر تلوار اُٹھائی اور انہی کی نسبت حکم تھا کہ یا قتل کئے جائیں اور یا اسلام لائیں۔سو یہ حکم مختص الزمان تھا ہمیشہ کے لئے نہیں تھا اور اسلام ان بادشاہوں کی کارروائیوں کا ذمہ دار نہیں ہے جو نبوت کے زمانہ کے بعد سراسر غلطیوں یا خود غرضیوں کی وجہ سے ظہور میں آئیں۔اب جو شخص نادان مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لئے بار بار جہاد کا مسئلہ یاد دلاتا ہے گویا وہ ان کی زہریلی عادت کوتحریک دینا چاہتا ہے۔کیا اچھا ہوتا کہ پادری صاحبان صحیح واقعات کو مدنظر رکھ کر اس بات پر زور دیتے کہ اسلام میں جہاد نہیں اور نہ جبر سے مسلمان کرنے کا حکم ہے۔جس کتاب میں یہ آیت اب تک موجود ہے کہ لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ یعنی دین کے معاملہ میں زبردستی نہیں کرنی چاہیئے کیا اس کی نسبت ہم ظن کر سکتے ہیں کہ وہ جہاد ( مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ 251-250) کی تعلیم دیتی ہے۔مجھے بڑے ہی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ عیسائیوں اور دوسرے معترضین نے اسلام پر حملے کرتے وقت ہرگز ہرگز اصلیت پر غور نہیں کیا۔وہ دیکھتے کہ اس وقت تمام مخالف اسلام اور مسلمانوں کے استیصال کے در پے تھے اور سب کے سب مل کر اس کے خلاف منصوبے کرتے اور مسلمانوں کو دکھ دیتے تھے۔ان دکھوں اور تکلیفوں کے مقابلہ میں اگر وہ اپنی جان نہ بچاتے تو کیا کرتے۔قرآن شریف میں یہ آیت موجود ہے أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا (الحج: 40) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم اس وقت دیا گیا جب کہ مسلمانوں پر ظلم کی حد ہوگئی تو انہیں مقابلہ کا حکم دیا گیا۔اس وقت کی یہ اجازت تھی دوسرے وقت کے لئے یہ حکم نہ تھا۔لیکچر لدھیانہ - ر- خ - جلد 20 صفحہ 274)