حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 499
499 جہاد اور جنگ نہ کرنے کا حکم لَا يَنْهِيكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَ لَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَ تُقْسِطُوا إِلَيْهِمُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ۔(الممتحنه: 9) قرآن شریف میں بڑی بسط اور تفصیل سے اس امر کا ذکر موجود ہے مگر کوئی غور کرنے والا اور بے تعصب دل سچائی اور حق کی پیاس بھی اپنے اندر رکھتا ہو۔قران شریف میں صاف طور اس امر کا ذکر آ گیا ہے۔وَ هُمُ بَدَهُ وَكُمُ اَوَّلَ مَرَّةٍ (التوبه : 13) یعنی ہر ایک شرارت اور فساد کی ابتدا پہلے کفار کی طرف سے ہوئی ہے بلکہ قران شریف نے تو اس امر کی بڑی وضاحت کر دی ہے کہ جنہوں نے مقابلہ کیا ان کا مقابلہ تلوار سے کیا جاوے اور جولوگ الگ رہتے ہیں اور انہوں نے ایسی جنگوں میں کوئی حصہ نہیں لیا ان سے تم بھی جنگ مت کرو بلکہ ان سے بیشک احسان کرو اور ان کے معاملات میں عدل کرو۔چنانچہ فرماتا ہے۔لَا يَنْهِيكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَ لَمُ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوُهُمْ وَ تُقْسِطُوا إِلَيْهِمُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (الممتحنه: 9) اب جائے غور ہے کہ قرآن شریف نے جن اضطراری حالتوں میں جنگ کرنے کی اجازت دی ہے ان میں سے آج اس زمانہ میں کوئی بھی حالت موجود ہے؟ ظاہر ہے کہ کوئی جبر وتشد دکسی دینی معاملہ میں ہم پر نہیں کیا جاتا بلکہ ہر ایک کو پوری آزادی دی گئی ہے اب نہ کوئی جنگ کرتا ہے کسی دینی غرض کے لیے اور نہ ہی لونڈی غلام کوئی بناتا ہے۔نہ کوئی نماز روزے اذان حج اور ارکان اسلام کی ادائیگی سے روکتا ہے تو پھر جہاد کیسا اور لونڈی غلام کیسے؟ ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 503-502) اور پھر خدا تعالیٰ نے قرآن شریف پارہ اٹھائیں سورۃ الممتحنہ میں فرمایا ہے۔لَا يَنْهِيكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِى الدِّينِ وَ لَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَ تُقْسِطُوا إِلَيْهِمُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ ترجمہ یعنی جن لوگوں نے تمہارے دین کونابود کر نیکی غرض سے تمہارے قتل کرنے کے لئے چڑھائی نہیں کی اور تمہیں اپنے وطن سے نہیں نکالا خدا تمہیں اس بات سے منع نہیں کرتا کہ تم ان سے احسان کرو اور اپنے مال کا کوئی حصہ ان کو دے دو اور معاملات میں ان سے انصاف کا برتاؤ کرو اور خدا ان لوگوں سے پیار کرتا ہے جو اپنے دشمنوں سے بھی احسان اور مروت اور انصاف سے پیش آتے ہیں خاص کر ایسے دشمن جو بہت بہت دکھ دے چکے ہوں۔اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے یعنی پارہ دہم سورہ تو بہ میں وَ اِنْ اَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَاجِرُهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَامَنَهُ ذَالِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْلَمُونَ (التوبة: 6) - یعنی اگر لڑائی کے ایام میں کوئی شخص مشرکوں میں سے خدا کے کلام کو سننا چاہے تو اس کو پناہ دید وجب تک کہ وہ خدا کے کلام کو سن لے اور پھر اس کو اپنے امن کی جگہ میں پہنچا دو کیونکہ وہ ایک جاہل قوم ہے اور نہیں جانتے کہ وہ کس سے لڑائی کر رہے ہیں۔(پیغام صلح - ر- خ - جلد 23 صفحہ 393)