حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 471
471 ترجمه از مرتب: تم قرآن مجید کو دیکھو کہ وہ اپنی بلندشان آیات میں لفظ نزول کے معنے کیسے بیان کرتا ہے اور تم اللہ تعالیٰ کے قول وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِيدَ پر بھی غور کرو اور تم اچھی طرح جانتے ہو کہ لوہا اور باقی ایسی ہی اشیاء آسمان سے نہیں اترتیں بلکہ زمین میں پیدا ہوتی ہیں۔اور اگر تم خدا تعالیٰ کی کتاب قرآن مجید میں غور کرو تو تم پر یہ بات واضح ہو جائے گی کہ نزول مسیح کی حقیقت بھی اسی قسم کی ہے۔اِسْتِكْبَارًا فِي الْأَرْضِ وَ مَكْرَ السَّيِّيءِ وَلَا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّيءُ إِلَّا بِأَهْلِهِ فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا سُنَّتَ الْأَوَّلِينَ فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَبْدِيلًا وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تحويلا۔(فاطر: 44) حضرت عیسی علیہ السلام کی طرف سے یہودیوں کو یہ جواب ملا ہے کہ ایلیا نبی کے دوبارہ آنے سے یوحنا نبی یعنی یکی کا آنا مراد تھا تو ایک دیندار آدمی سمجھ سکتا ہے کہ عیسی ابن مریم کا دوبارہ آنا بھی اسی طرز سے ہوگا کیونکہ یہ وہی سنت اللہ ہے جو پہلے گزر چکی ہے وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللهِ تَبْدِيلًا۔(الاحزاب: 63) (ایام اصلح - ر-خ- جلد 14 صفحہ 279) زمین میں ہر چیز معرض فنا میں ہے ہر یک چیز جو زمین میں موجود ہے اور زمین سے نکلتی ہے وہ معرض فنا میں ہے یعنی و مبدم فنا کی طرف میل کر رہی ہے۔مطلب یہ کہ ہر ایک جسم خاکی کو نابود ہونے کی طرف ایک حرکت ہے اور کوئی وقت اس حرکت سے خالی نہیں۔وہی حرکت بچہ کو جوان کر دیتی ہے اور جو ان کو بڑھا اور بڑھے کو قبر میں ڈال دیتی ہے اور اس قانون قدرت سے کوئی باہر نہیں۔خدائے تعالیٰ نے کان کا لفظ اختیار کیا یفنی نہیں کہا تا معلوم ہو کہ فنا ایسی چیز نہیں کہ کسی آئندہ زمانہ میں یک دفعہ واقعہ ہوگی بلکہ سلسلہ فنا کا ساتھ ساتھ جاری ہے لیکن ہمارے مولوی یہ گمان کر رہے ہیں کہ مسیح ابن مریم اسی فانی جسم کے ساتھ جس میں بموجب نص صریح کے ہر دم فنا کام کر رہی ہے بلا تغیر و تبدل آسمان پر بیٹھا ہے اور زمانہ اس پر اثر نہیں کرتا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بھی مسیح کو کائنات الارض میں سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا۔(ازالہ اوہام۔ر۔خ۔جلد 3 صفحہ 434) کیوں بنایا ابن مریم کو خدا سنت اللہ ޏ کیوں بنایا اس کو باشان کبیر غیب دان و خالق گئے سب پر وہ مرنے ނ بچا وہ کیوں باہر رہا و حی و قدیر اب تلک آئی نہیں اس فنا ہے وہی اکثر پرندوں کا خدا اس خدا دانی تیرے مرحبا مولوی صاحب ! یہی توحید ہے سچ کہو کس دیو کی تقلید ہے! جس پہ برسوں سے سے تمھیں اک ناز تھا کیا یہی توحید حق کا راز تھا کیا بشر میں ہے خدائی کا نشان! الاماں ایسے گماں الاماں (ازالہ اوہام۔رخ۔جلد 3 صفحہ 513 ( در مشین اردو صفحہ 11)