حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 472 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 472

472 جنتی پر دو موتیں نہیں آتیں قوله تعالى الا موتتنا الاولى وكانت لا بى بكر رضى الله عنه مناسبة عجيبة بدقائق القران و رموزه و اسراره و معارفه و كان له ملكث كاملة في استنباط المسائل من القرآن الكريم فلذلك هدى قلبه الى الحق و فهم ان الرجوع الى الدنيا موتة ثانية وهى لا يجوز على اهل الجنة بدليل قوله تعالى حكاية عن اهلها الا موتتنا الا ولى و ما نحن بمعذ بين فان رجوع اهل الجنة الى الدنيا ثم موتهم و ورود الام السكرات والامراض عليهم نوع من التعذيب وقد نجا الله اياهم من كل عذاب و اواهم عنده باعطاء كل احبور و سرور من يوم انتقالهم الى الدار الاخرة فكيف يمكن ان يرجعوا الى دار التعذيبات مرة ثانية فهذا معنى قول اهل الجنة: و ما نحن بمعذبين۔(الشعراء:139) حمامة البشرای-رخ- جلد 7 صفحہ 245) یہی آیت إِلَّا مَوْتَتَنَا الأولى ہی تھی اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو قرآن کریم کے دقائق رموز اسرار اور معارف سے عجیب مناسبت تھی اور قرآن کریم سے مسائل مستنبط کرنے میں کامل ملکہ حاصل تھا۔پس اس وجہ سے آپ کا دل حق کی طرف ہدایت پا گیا اور آپ سمجھ گئے کہ دنیا کی طرف رجوع کرنا دوسری موت ہے اور جنتیوں کے لئے یہ جائز نہیں، اور آپ نے دلیل اس آیت اس سے پکڑی جو اللہ تعالیٰ نے اہل جنت سے حکایت کرتے ہوئے بیان کی ہے یعنی إِلَّا مَوْتَتَنَا الْأُولَى وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذِّبِينَ کیونکہ اہل جنت کا دنیا کی طرف واپس آنا پھر ان پر موت کا دوبارہ واقع ہونا اور ان پر سکرات موت اور امراض کا وارد ہونا عذاب ہی کی ایک قسم ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو ہر عذاب سے نجات دے دی ہے اور دار آخرت کی طرف منتقل کر کے اور ہر ایک خوشی اور سرور عطا کر کے اپنے پاس پناہ دی ہے۔پس یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ اس دنیا دارالعذاب کی طرف دوبارہ واپس آئیں۔پس اہل جنت کے قول وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذِّبِینَ کے یہی معنے ہیں۔وفات مسیح ناصری علیہ السلام کیوں نہیں لوگو تمھیں حق کا خیال دل میں اُٹھتا ہے مرے سو سو ابال گیا حق کی قسم داخل جنت ہوا وہ ابن مریم مارتا وہ محترم ہے اس کو فرقاں سربسر اس کے مر جانے کی دیتا ہے خبر نہیں باہر رہا اموات کوئی مُردوں سے سے ، کبھی آیا نہیں عهد شد از کردگار بے چگوں عزیزو! سوچ کر دیکھو ذرا ہو گیا ثابت یہ تمیں آیات سے تو فرقاں نے بھی بتلایا نہیں غور کن در انَّهُمْ لَا يَرْجِعُون سے بچتا کوئی دیکھا بھلا موت تو رہنے کا نہیں پیارو مکاں چل بسے سب انبیاء و راستاں ہاں نہیں پاتا کوئی اس سے نجات یوں ہی باتیں ہیں بنائیں واہیات ( در تشین اردو صفحه 10 ) (ازالہ اوہام۔ر۔خ۔جلد 3 صفحہ 513)