حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 470
دوسری فصل 470 حضرت اقدس" کا عقیدہ وفات مسیح یہ خوب یادر ہے کہ ہم حضرت عیسی علیہ السلام کو آسمان پر روح بلا جسم ہرگز نہیں مانتے ہم مانتے ہیں کہ وہ وہاں جسم ہی کے ساتھ ہیں۔ہاں فرق اتنا ہے کہ یہ لوگ جسم عنصری کہتے ہیں اور میں کہتا ہوں کہ وہ جسم وہی جسم ہے جو دوسرے رسولوں کو دیا گیا۔دوزخیوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ (الاعراف : 41) یعنی کافروں کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جاویں گے اور مومنوں کے لئے فرماتا ہے۔مُفَتَحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُ (ص: 51) اب ان آیات میں لَهُمُ کا لفظ اجسام کو چاہتا ہے تو کیا یہ سب کے سب پھر اسی جسم عنصری کے ساتھ جاتے ہیں؟ نہیں۔ایسا نہیں۔جسم تو ہوتے ہیں مگر وہ وہ جسم ہیں جو مرنے کے بعد دئے جاتے ہیں۔( ملفوظات جلد چہارم صفحه 399) سچی بات یہی ہے کہ مسلمانوں اور یہود کا متفقہ اور مسلّم اعتقاد اس پر ہے کہ خدا کے نیک بندوں کا بعد وفات رفع روحانی ہوا کرتا ہے اور یہی قابل بڑائی بات ہے رفع جسمانی کے یہ نہ قائل ہیں اور نہ کوئی اس میں فضیلت مد نظر ہے چنانچہ قرآن شریف بھی اسی اصول کو یوں بیان فرماتا ہے کہ مُفَتَحَةً لَّهُمُ الْأَبْوَابُ (ص: 51) یعنی جو خدا کے نزدیک متقی اور برگزیدہ انسان ہوتے ہیں خدا ان کے لئے آسمانی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے اور ان کا رفع روحانی بعد الموت کیا جاتا ہے اور ان کے مقابل میں جو لوگ بد کار اور خدا ( تعالیٰ ) سے دور ہوتے ہیں اور ان کو خدا ( تعالی) سے کوئی تعلق صدق و اخلاص نہیں ہوتا ان کے واسطے آسمانی دروازے نہیں کھولے جاتے جیسا کہ فرمایا۔لَا تُفْتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ (الاعراف : 41) ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 491) ووس نزول مسیح کی حقیقت وَ أَنْزَلْنَا الْحَدِيدَ۔( الحديد : 26) فانظروا الى القرآن الكريم كيف يبين معنى النزول فى آياته العظمى و تدبر وافي قوله تعالى و انزلنا الحديد (الحديد : 26)۔۔۔۔۔۔۔و انتم تعلمون ان هذه الاشياء لا تنزل من السماء بل تحدث وتتولد في الارض و في طبقات الثرى و ان امعنتم النظر في كتاب الله تعالیٰ فيكشف عليكم ان حقيقت نزول المسيح من هذه الاقسام۔( آئینہ کمالات اسلام -ر خ- جلد 5 صفحہ 442-441)