حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 445
445 حدیث اور سنت میں فرق صراط مستقیم یہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاتھ میں اسلامی ہدائتیوں پر قائم ہونے کے لیے تین چیزیں ہیں (۱) قرآن شریف جو کتاب اللہ ہے جس سے بڑھ کر ہمارے ہاتھ میں کوئی کلام قطعی اور یقینی نہیں وہ خدا کا کلام ہے وہ شک اور ظن کی آلائشوں سے پاک ہے۔(۲) دوسری سنت اور اس جگہ ہم اہل حدیث کی اصطلاحات سے الگ ہوکر بات کرتے ہیں یعنی ہم حدیث اور سنت کو ایک چیز قرار نہیں دیتے جیسا کہ رسمی محدثین کا طریق ہے بلکہ حدیث الگ چیز ہے اور سنت الگ چیز۔سنت سے مراد ہماری صرف آنحضرت کی فعلی روش ہے جو اپنے اندر تو اتر رکھتی ہے اور ابتدا سے قرآن شریف کے ساتھ ہی ظاہر ہوئی اور ہمیشہ ساتھ ہی رہے گی یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہہ سکتے ہیں کہ قرآن شریف خدا تعالیٰ کا قول ہے اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل اور قدیم سے عادت اللہ یہی ہے کہ جب انبیاء علیہم السلام خدا کا قول لوگوں کی ہدایت کے لیے لاتے ہیں تو اپنے فعل سے یعنی عملی طور پر اس قول کی تفسیر کر دیتے ہیں تا اس قول کا سمجھنا لوگوں پر مشتبہ نہ رہے اور اس قول پر آپ بھی عمل کرتے ہیں اور دوسروں سے بھی عمل کراتے ہیں۔(۳) تیسرا ذریعہ ہدایت کا حدیث ہے اور حدیث سے مراد ہماری وہ آثار ہیں کہ جو قصوں کے رنگ میں آنحضرت سے قریباً ڈیڑھ سو برس بعد مختلف راویوں کے ذریعوں سے جمع کیے گئے ہیں۔سنت صحیحہ معلوم کرنے کا طریق ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی رخ۔جلد 19 صفحہ 210-209) جب اسلام کے فرقوں میں اختلاف ہے تو سنت محمہ کیسے معلوم ہو؟ اس کے جواب میں فرمایا کہ :۔قرآن شریف احادیث اور ایک قوم کے تقوی طہارت اور سنت کو جب ملایا جاوے تو پھر پتہ لگ جاتا ہے کہ اصل سنت کیا ہے۔صحابہ علماء سلف اور محدثین کا مذہب ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 265) اگر یہ کہا جائے کہ ہم یہ تحریفات و تبدیلات بلا ضرورت نہیں کرتے بلکہ آیات قرآنی کو بعض احادیث سے مطابق و موافق کرنے کے لئے بوجہ اشد ضرورت اس حرکت بے جا کے مرتکب ہوتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو آیت اور حدیث میں باہم تعارض واقع ہونے کی حالت میں اصول مفسرین و محدثین یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو حدیث کے معنوں میں تاویل کر کے اس کو قرآن کریم کے مطابق کیا جائے۔جیسا کہ صحیح بخاری کی کتاب الجنائز صفحہ 172 میں صاف لکھا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ نے حدیث ان الميت يعذب ببعض بكاء اهله کو قرآن کریم کی اس آیت سے کہ لا تزر وازرة وزر اخرى (الانعام: 165) معارض و مخالف پا کر حدیث کی یہ تاویل کر دی کہ یہ مومنوں کے متعلق نہیں۔بلکہ کفار کے متعلق ہے جو متعلقین کے جزع فزع پر راضی تھے بلکہ وصیت کر جاتے تھے پھر بخاری کے صفحہ 183 میں یہ حدیث جو لکھی ہے۔قال هل وجد تم ما وعد كم ربكم حقا۔اس حدیث کو حضرت عائشہ صدیقہ نے اس کے سیدھے اور حقیقی معنی کے رو سے قبول نہیں کیا اس عذر سے کہ یہ