حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 444
444 علاوہ اس کمال خاص قرآن کے کہ وہ وحی متلو ہے محفوظیت کی رو سے بھی حدیثوں کو قرآن کریم سے کیا نسبت ہے۔قرآن کریم کی جیسا کہ اس کی بلاغت و فصاحت و حقایق و معارف کی رو سے کوئی چیز مثل نہیں ٹھہر سکتی ایسا ہے اس کی صحت کاملہ اور محفوظیت اور لاریب فیہ ہونے میں کوئی چیز اس کی مثیل نہیں کیونکہ اس کے الفاظ اور ترتیب الفاظ اور محفوظیت تامہ کا اہتمام خدائے تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے لیا ہے اور ماسوا اس کے حدیث ہو یا قول کسی صحابی کا ہو ان سب کا اہتمام انسانوں نے کیا ہے جو سہوا ور نسیان سے بری نہی رہ سکتے اور ہرگز وہ لوگ محفوظیت تامہ اور صحت کاملہ میں احادیث اور اقوال کو مثل قرآن نہیں بنا سکتے تھے اور یہ بجز ان کا اس آیت کریمہ کے اعجازات پیشکر دہ میں داخل ہے۔قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنُسُ وَالْجِنُّ عُلَى اَنْ يَّأْتُوا بِمِثْلِ هذَا الْقُرْآن لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا۔(بنی اسرائیل: 89) جب ہرایک بات میں مثل قرآن ممتنع ہے تو کیونکر وہ لوگ احادیث کو صحت اور محفوظیت میں مثل قرآن بنا سکتے ہیں۔(ازالہ اوھام -ر خ- جلد 3 صفحہ 616-615) منصب حدیث الحق مباحثہ لدھیانہ۔ر۔خ۔جلد 4 صفحہ 107) وَمَا الكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ۔(الحشر 8) مَا الكُمُ الرَّسُول کا حکم بغیر کسی قید اور شرط کے نہیں۔اول یہ تو دیکھ لینا چاہیئے کہ کوئی حدیث فی الواقع ما اتکم میں داخل ہے یا نہیں۔ما اتکم میں تو وہ داخل ہوگا جس کو ہم شناخت کر لیں کہ درحقیقت رسول نے اس کو دیا ہے اور جب تک پورے طور پر اطمینان نہ ہو تو کیا یہ جائز ہے کہ حدیث کا نام سننے سے مَا اتکم میں اس کو داخل کر دیں۔اب سمجھنا چاہیئے کہ گوا جمالی طور پر قرآن شریف اکمل دائم کتاب ہے مگر ایک حصہ کثیرہ دین کا اور طریقہ عبادات وغیرہ کا مفصل اور مبسوط طور پر احادیث سے ہی ہم نے لیا ہے اور اگر احادیث کو ہم بکلی ساقط الاعتبار سمجھ لیں تو پھر اس قدر بھی ثبوت دینا ہمیں مشکل ہو گا کہ در حقیقت حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما وعثمان ذوالنورین اور جناب علی مرتضی کرم اللہ وجہہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام اور امیر المومنین تھے اور وجود رکھتے تھے صرف فرضی نام نہیں کیونکہ قرآن کریم میں ان میں سے کسی کا نام نہیں۔ہاں اگر کوئی حدیث قرآن شریف کی کسی آیت سے صریح مخالف و مغائر پڑے مثلاً قرآن شریف کہتا ہے کہ مسیح ابن مریم فوت ہو گیا اور حدیث یہ کہے کہ فوت نہیں ہوا تو ایسی حدیث مردود اور نا قابل اعتبار ہوگی لیکن جو حدیث قرآن شریف کے مخالف نہیں بلکہ اس کے بیان کو اور بھی بسط سے بیان کرتی ہے وہ بشر طیکہ جرح سے خالی ہو قبول کرنے کے لائق ہے۔پس یہ کمال درجہ کی بے نصیبی اور بھاری غلطی ہے کہ یک لخت تمام حدیثوں کو ساقط الاعتبار مجھ لیں اور ایسی متواتر پیشگوئیوں کو جو خیر القرون میں ہی تمام ممالک اسلام میں پھیل گئی تھیں اور مسلمات میں سے سمجھی گئی تھیں بعد موضوعات داخل کر دیں۔(ازالہ اوہام۔ر۔خ۔جلد 3 صفحہ 400)