حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 443 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 443

443 قرآن۔صحت حدیث پر محک اور ہیمن ہے اور آپکا یہ فرمانا کہ قرآن کریم کو کیوں محک صحت احادیث ٹھہراتے ہو۔سو اس کا جواب میں بار بار یہی دونگا کہ قرآن کریم میمن اور امام اور میزان اور قول فصل اور ہادی ہے۔اگر اسکومحک نہ ٹھہراؤں تو اور کس کو ٹھہراؤں؟ کیا ہمیں قرآن کریم کے اس مرتبہ پر ایمان نہیں لانا چاہیئے۔جومرتبہ وہ خود اپنے لئے قرار دیتا ہے؟ دیکھنا چاہیئے کہ وہ صاف الفاظ میں بیان فرماتا ہے۔وَ اعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا وَّلَا تَفَرَّقُوا (ال عمران : 104)۔کیا اس حبل سے حدیثیں مراد ہیں؟ پھر جس حالت میں وہ اس حبل سے پنجہ مارنے کیلئے تاکید شدید فرماتا ہے تو کیا اس کے یہ معنے نہیں کہ ہم ہر ایک اختلاف کے وقت قرآن کریم کی طرف رجوع کریں؟ اور پھر فرماتا ہے وَ مُـنَ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكَاوَّ نَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيمَةِ أَعْمَى۔(طہ' :125)۔یعنی جو شخص میرےفرمودہ سے اعراض کرے اور ا سکے مخالف کی طرف مائل ہو تو اسکے لئے تنگ معیشت ہے یعنی وہ حقائق اور معارف سے بے نصیب ہے اور قیامت کو اندھا اٹھایا جائیگا۔اب ہم اگر ایک حدیث کو صریح قرآن کریم کے خلاف پائیں اور پھر مخالفت کی حالت میں بھی اسکو مان لیں اور اس تخالف کی کچھ بھی پرواہ نہ کریں تو گویا اس بات پر راضی ہو گئے کہ معارف حقہ سے بے نصیب رہیں اور قیامت کو اندھے اٹھائے جائیں۔پھر ایک جگہ فرماتا ہے۔فَاسْتَمْسِكُ بِالَّذِى اَوْحَى إِلَيْكَ (الزخرف: 44) و انه لذکر لک و لقومک (الزخرف: 45) یعنی قرآن کریم کو ہر یک امر میں دستاویز پکڑو تم سب کا اسی میں شرف ہے کہ تم قرآن کو دستاویز پکڑو۔اور اسی کو مقدم رکھو۔اب اگر ہم مخالفت قرآن اور حدیث کے وقت میں قرآن کو دستاویز نہ پکڑیں تو گویا ہماری یہ مرضی ہوگی کہ جس شرف کا ہم کو وعدہ دیا گیا ہے اس شرف سے محروم رہیں۔الحق مباحثہ لدھیانہ۔ر۔خ۔جلد 4 صفحہ 37) قرآن کی قطعیت۔قرآن کی حفاظت کے اعتبار سے احادیث کے اوپر نہ تو خدا کی مہر ہے نہ رسول اللہ صلعم کی اور قرآن شریف کی نسبت خدا تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَإِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ (الحجر: (10) اس لئے ہمارا یہ مذہب ہے کہ قرآن شریف سے معارض نہ ہونے کی حالت میں ضعیف سے ضعیف حدیث پر بھی عمل کیا جاوے لیکن اگر کوئی قصہ جو کہ قرآن شریف میں مذکور ہے اور حدیث میں اس کے خلاف پایا جاوے مثلاً قرآن میں لکھا ہے کہ اسحاق ابراہیم کے بیٹے تھے اور حدیث میں لکھا ہوا ہو کہ وہ نہیں تھے تو ایسی صورت میں حدیث پر کیسے اعتماد ہوسکتا ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحه 442)