حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 442
442 وَ الْقِ مَا فِي يَمِينِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوا طَ إِنَّمَا صَنَعُوا كَيْدُ سَحِرٍ وَلَا يُفْلِحُ السَّاحِرُ حَيْثُ أَتَى۔(طه: 70) (اس سوال کے جواب میں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کافروں نے جو جادو کیا تھا اس کی نسبت آپ کا کیا خیال ہے۔فرمایا) جادو بھی شیطان کی طرف سے ہوتا ہے رسولوں اور نبیوں کی یہ شان نہیں ہوتی کہ ان پر جادو کا کچھ اثر ہو سکے بلکہ ان کو دیکھ کر جادو بھاگ جاتا ہے جیسے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔لَا يُفْلِحُ الشَّحِرُ حَيْثُ أَتى (طه: 70) دیکھو حضرت موسیٰ کے مقابل پر جادو تھا آخر موسیٰ غالب ہوا کہ نہیں۔یہ بات بالکل غلط ہے کہ آنحضرت صلعم کے مقابلہ پر جادو غالب آ گیا ہم اس کو بھی نہیں مان سکتے۔آنکھ بند کر کے بخاری اور مسلم کو مانتے جانا یہ ہمارے مسلک کے برخلاف ہے۔یہ تو عقل بھی تسلیم نہیں کرسکتی کہ ایسے عالی شان بنی پر جادو اثر کر گیا ہو۔ایسی ایسی باتیں کہ اس جادو کی تاثیر سے(معاذاللہ ) آنحضرت صلح کا حافظہ جا تار ہا یہ ہوگیا اور وہ ہو گیا کسی صورت میں صحیح نہیں ہوسکتیں معلوم ہوتا ہے کہ کسی خبیث آدمی نے اپنی طرف سے ایسی باتیں ملا دی ہیں۔گو ہم نظر تہذیب سے احادیث کو دیکھتے ہیں لیکن جو حدیث قرآن کریم کے برخلاف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عصمت کے برخلاف ہو اس کو ہم کب مان سکتے ہیں۔اس وقت احادیث جمع کرنے کا وقت تھا گو انہوں نے سوچ سمجھ کر احادیث کو درج کیا تھا مگر پوری احتیاط سے کام نہیں لے سکے وہ جمع کرنے کا وقت تھا لیکن اب نظر اور غور کرنے کا وقت ہے آثار نبی جمع کرنا بڑے ثواب کا کام ہے لیکن یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جمع کرنے والے خوب غور سے کام نہیں لے سکتے۔اب ہر ایک کا اختیار ہے کہ خوب غور اور فکر سے کام لے جو مانے والی ہو وہ مانے اور جو چھوڑنے والی ہو وہ چھوڑ دے ایسی بات کہ آنحضرت صلعم پر (معاذ اللہ ) جادو کا اثر ہو گیا تھا اس سے تو ایمان اُٹھ جاتا ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِذْ يَقُولُ الظَّلِمُونَ إِنْ تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا (بنی اسرائیل: 48) ایسی ایسی باتیں کہنے والے تو ظالم ہیں نہ کہ مسلمان۔یہ تو بے ایمانوں اور ظالموں کا قول ہے کہ آنحضرت صلعم پر (معاذ اللہ ) سحر اور جادو کا اثر ہو گیا تھا اتنا نہیں سوچتے کہ جب (معاذ اللہ ) آنحضرت کا یہ حال ہے تو پھر اُمت کا کیا ٹھکاناوہ تو پھر غرق ہو گئی معلوم نہیں ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ جس معصوم نبی صلعم کو تمام انبیاء مست شیطان سے پاک سمجھتے آئے ہیں۔یہ ان کی شان میں ایسے ایسے الفاظ بولتے ہیں۔(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 349-348)