حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 381 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 381

381 قرآن کریم ہر الہام پر یمن ہے وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلَّمَهُ اللَّهِ إِلَّا وَحْيَا أَوْمِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُوْلًا فَيُوْحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَاءُ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَكِيمٌ۔(الشورى: 52) یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ ہر ایک الہام کے لئے وہ سنت اللہ بطور امام اور میمن اور پیش رو کے ہے جو قرآن کریم میں وارد ہو چکی ہے اور ممکن نہیں کہ کوئی الہام اس سنت کو توڑ کر ظہور میں آوے کیونکہ اس سے پاک (انوار الاسلام - ر-خ- جلد 9 صفحہ 91) نوشتوں کا باطل ہونا لازم آتا ہے۔جب تک کسی الہام پر خدا تعالیٰ کی مہر نہ ہو وہ ماننے کے لائق نہیں ہوتا۔دیکھو قرآن شریف کو عربوں جیسے اشد کا فر کب مان سکتے تھے اگر خدا تعالیٰ کی مہر اس پر نہ ہوتی۔ہمیں بھی اگر کوئی کشف رویا یا الہام ہوتا ہے تو ہمارا دستور ہے کہ اسے قرآن مجید پر عرض کرتے ہیں اور اس کے سامنے پیش کرتے ہیں۔اور پھر یہ بھی یادرکھو کہ اگر کوئی الہام قرآن مجید کے مطابق بھی ہولیکن کوئی نشان ساتھ نہ ہو تو وہ قابل قبول نہیں ہوتا۔قابل قبول الہام وہی ہوتا ہے جو قرآن مجید کے مطابق بھی ہو اور ساتھ ہی اس کی تائید میں نشان بھی ہوں۔(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 364) اللَّهُ الَّذِي أَنْزَلَ الْكِتَبَ بِالْحَقِّ وَالْمِيْزَانَ طَ وَمَا يُدْرِيْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِيْبٌ۔(الشورى: 18) خدا وہ ہے جس نے کتاب یعنی قرآن شریف کو حق اور میزان کے ساتھ اتارا یعنی وہ ایسی کتاب ہے جو حق اور باطل کے پر کھنے کے لئے بطور میزان کے ہے۔جنگ مقدس - ر - خ - جلد 6 صفحہ 86) وَ إِنَّ لِلْقُرْآنِ شَانًا أَعْظَمَ مِنْ كُلَّ شَانٍ وَ إِنَّهُ حَكَمٌ وَّ مُهَيْمِنٌ وَّ إِنَّهُ جَمَعَ الْبَرَاهِيْنَ وَبَدَّدَ الْعِدَا۔وَإِنَّهُ كِتَابٌ فِيْهِ تَفْصِيلُ كُلَّ شَيْءٍ وَفِيْهِ أَخْبَارُ مَا يَأْتِي وَمَا مَضَى۔وَلَا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ وَإِنَّهُ نُوْرُ رَبَّنَا الْأَعْلَى۔( ترجمہ اردو) اور قرآن کی وہ اعلیٰ شان ہے کہ ہر ایک شان سے بلند ہے وہ حکم ہے یعنی فیصلہ کر نیوالا اور وہ ہیمن ہے یعنی تمام ہدایتوں کا مجموعہ ہے اس نے تمام دلیلیں جمع کر دیں اور دشمنوں کی جمعیت کو تتر بتر کر دیا۔اور وہ ایسی کتاب ہے کہ اس میں ہر چیز کی تفصیل ہے اور اس میں آئندہ اور گذشتہ کی خبریں موجود ہیں اور باطل کو اس کی طرف راہ نہیں ہے نہ آگے سے نہ پیچھے سے اور وہ خدا کا نور ہے۔(خطبہ الہامیہ۔رخ۔جلد 16 صفحہ 103)