حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 380 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 380

380 إِنَّ الْوَحْيَ كَمَا يَنْزِلُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ كَذَلِكَ يَنْزِلُ عَلَى الْأَوْلِيَاءِ وَلَا فَرْقَ فِي نُزُوْلِ الْوَحْيِ بَيْنَ أَنْ يَكُونَ إِلى نَبِيِّ اَوْ وَلِي وَلِكُلّ حَظِّ مِنْ مُكَالِمَاتِ اللَّهِ تَعَالَى وَ مُخَاطَبَاتِهِ عَلَى حَسَبِ الْمَدَارِجِ نَعَمْ لِوَحْيِ الْأَنْبِيَاءِ شَأْنَ اتَمُ وَاَكْمَلُ وَ أَقْوَى أَقْسَامِ الْوَحْيِ وَحْيُ رَسُوْلِنَا خَاتَمِ النَّبِيِّينَ۔ترجمه از مرتب:۔وحی جیسے انبیاء پر نازل ہوتی ہے ویسے ہی وہ اولیاء پر نازل ہوتی ہے اور نبی اور ولی پر وحی کے نزول میں کوئی فرق نہیں ہوتا ان میں سے ہر ایک کو اللہ تعالیٰ کے مکالمات اور مخاطبات سے علی حسب المدارج حصہ ملتا ہے ہاں انبیاء کی وحی کو ایک شان اتم اور اکمل حاصل ہوتی ہے اور وحی کی اقسام میں سے زیادہ قوی وہ وحی ہے جو ہمارے نبی خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی۔تحفہ بغداد - ر-خ- جلد 7 صفحہ 28-27 حاشیہ ) وحی صاحب وحی کی فطرت کے مطابق ہوتی ہے ہر یک وحی نبی منزل علیہ کی فطرت کے موافق نازل ہوتی ہے جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مزاج میں جلال اور غضب تھا۔توریت بھی موسوی فطرت کے موافق ایک جلالی شریعت نازل ہوئی۔حضرت مسیح علیہ السلام کے مزاج میں حلم اور نرمی تھی سوانجیل کی تعلیم بھی حلم اور نرمی پر مشتمل ہے مگر آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج پرمش بغایت درجہ وضع استقامت پر واقع تھا۔نہ ہر جگہ حلم پسند تھا اور نہ ہر مقام غضب مرغوب خاطر تھا بلکہ حکیمانہ طور پر رعایت محل اور موقع کی ملحوظ طبیعت مبارک تھی۔سو قرآن شریف بھی اسی طرز موزوں و معتدل پر نازل ہوا کہ جامع شدت ورحمت و ہیبت و شفقت و نرمی و درشتی ہے۔( براھین احمدیہ رخ - جلد 1 صفحہ 193 حاشیہ نمبر 1) ہر شخص کا کلام اس کی ہمت کے موافق ہوتا ہے جس قدر اس کی ہمت اور عزم اور مقاصد عالی ہوں گے اسی پایہ کا وہ کلام ہو۔سووحی الہی میں بھی وہی رنگ ہوگا۔جس شخص کی طرف اس کی وحی آئی ہے۔جس قدر ہمت بلند رکھنے والا وہ ہوگا اسی پایہ کا کلام اسے ملے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمت و استعداد اور عزم کا دائرہ چونکہ بہت ہی وسیع تھا اس لئے آپ کو جو کلام ملاوہ بھی اس پایہ اور رتبہ کیا ہے کہ دوسرا کوئی شخص اس ہمت اور حوصلہ کا کبھی پیدا نہ ہوگا کیونکہ آپ کی دعوت کسی محدودوقت یا مخصوص قوم کے لئے تھی جیسے آپ سے پہلے نبیوں کی ہوتی تھی۔(ملفوظات جلد دوم صفحہ 41-40) وَ مَا اَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِيْنَ۔(الانبياء : 108) ایک شخص جو کل دنیا کی اصلاح کے لئے آنے والا تھا کب ہو سکتا تھا کہ وہ ایک معمولی انسان ہوتا ! جس قدر انبیاء علیہم السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آئے وہ سب ایک خاص خاص قوم کے لئے آئے تھے اس لئے ان کی شریعت مختص القوم اور مختص الزمان تھی۔مگر ہمارے نبی وہ عظیم الشان نبی ہیں جن کے لئے حکم ہوا کہ وَمَا اَرْسَلْنگ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِيْنَ۔اور قُلْ يَايُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُوْلُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا۔(الاعراف: 159) اس لئے جس قدر عظمتیں آپ کی بیان ہوئی ہیں مصلحت الہی کا بھی یہی تقاضا تھا کیونکہ جس پر ختم نبوت ہونا تھا اگر وہ اپنے کمالات میں کمی رکھتا تو پھر وہی کمی آئندہ امت میں رہتی۔کیونکہ جس قدر کمالات اللہ تعالیٰ کسی نبی میں پیدا کرتا ہے اسی قدر اس کی امت میں ظہور پذیر ہوتے ہیں اور جس قدر کمز ور تعلیم وہ لاتا ہے اتناہی ضعف اس کی امت میں نمودار ہو جاتا ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 663)