حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 382
382 قرآن کریم معجزہ ہے اور بے مثل ہے وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِثْلِهِ وَادْعُوْا شُهَدَاءَ كُمْ مِنْ دُوْنِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَدِقِينَ۔فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ أُعِدَّتْ لِلْكَفِرِيْنَ۔(البقره: 24 25) یہ بات خوب یا درکھو کہ جیسے ان تمام چیزوں کی نظیر اور شبیہ بنانا کہ جو صادر من اللہ ہیں غیر ممکن اور منع ہے ایسا ہی قرآن شریف کی نظیر بنانا بھی حدامکان سے خارج ہے۔یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے عرب کے نامی شاعروں کو کہ جن کی عربی مادری زبان تھی اور جو طبعی طور پر اور نیز کسی طور پر مذاق کلام سے خوب واقف تھے مانا پڑا کہ قرآن شریف انسانی طاقتوں سے بلند تر ہے اور کچھ عرب پر موقوف نہیں بلکہ خود تم میں سے کئی اندھے تھے کہ جو اس کامل روشنی سے بینا ہو گئے اور کئی بہرے تھے کہ اس سے سننے لگ گئے اور اب بھی وہ روشنی چاروں طرف سے تاریکی کو اٹھاتی جاتی ہے اور قرآن شریف کے انوار حقہ دلوں کو منور کرتے جاتے ہیں۔( براھین احمدیہ۔رخ۔جلد 1 صفحہ 475-474 حاشیہ نمبر 3) وَقَالُوْا لَوْلَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ ايَتٌ مِّنْ رَّبِّهِ قُلْ إِنَّمَا الْأَيْتُ عِنْدَ اللَّهِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُّبِينٌ۔أَوَلَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ يُتْلَى عَلَيْهِمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَرَحْمَةً وَّ ذِكْرَى لِقَوْمٍ يُؤْمِنُوْنَ۔قُلْ كَفَى بِاللَّهِ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ شَهِيدًا يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَ الَّذِيْنَ آمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَ كَفَرُوْا بِاللهِ أُولئِكَ هُمُ الْخَسِرُونَ۔وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَلَوْلَا أَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَاءَ هُمُ الْعَذَابُ أتِيَنهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ۔(العنكبوت: 51تا54) فرمایا کہ ایسا ہی نشان چاہتے ہو جو تمہارے وجودوں پر وارد ہو جائے تو پھر عذاب کے نشان کی کیا حاجت ہے کیا اس مدعا کے حاصل کرنے کے لئے رحمت کا نشان کافی نہیں یعنی قرآن شریف جو تمہاری آنکھوں کو اپنے پُر نور اور تیز شعاعوں سے خیرہ کر رہا ہے اور اپنی ذاتی خوبیاں اور اپنے حقائق اور معارف اور اپنی فوق العادت خواص اس قدر دکھلا رہا ہے جس کے مقابلہ و معارضہ سے تم عاجز رہ گئے ہو اور تم پر اور تمہاری قوم پر ایک خارق عادت اثر ڈال رہا ہے اور دلوں پر وارد ہو کر عجیب در عجیب تبدیلیاں دکھلا رہا ہے۔مدتہائے دراز کے مردے اس سے زندہ ہوتے چلے جاتے ہیں اور مادر زاد اندھے جو بے شمار پشتوں سے اندھے ہی چلے آتے تھے آنکھیں کھول رہے ہیں اور کفر اور الحاد کی طرح طرح کی بیماریاں اس سے اچھی ہوتی چلی جاتی ہیں اور تعصب کے سخت جذامی اس سے صاف ہوتے جاتے۔اس سے نور ملتا ہے اور ظلمت دور ہوتی ہے اور وصل الہی میسر آتا ہے اور اس کے علامات پیدا ہوتے ہیں سوتم کیوں اس رحمت کے نشان کو چھوڑ کر جو ہمیشہ کی زندگی بخشتا ہے عذاب اور موت کا نشان مانگتے ہو۔پھر بعد اس کے فرمایا کہ یہ قوم تو جلدی سے عذاب ہی مانگتی ہے رحمت کے نشانوں سے فائدہ اٹھانا نہیں چاہتی ان کو کہہ دے کہ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ عذاب کی نشانیاں وابستہ باوقات ہوتی ہیں تو یہ عذابی نشانیاں بھی کب کی نازل ہوگئی ہو تیں اور عذاب ضرور آئے گا اور ایسے وقت میں آئیگا کہ ان کو خبر بھی نہیں ہوگی۔ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات صفحہ 12-7 شائع کردہ انجمن حمایت اسلام۔لاہور )