حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 277
277 زمین کی طرف متوجہ ہو ئیں سو وہ ظلمانی حالت دنیا کیلئے مبارک ہو گئی اور دنیا نے اس سے ایک عظیم الشان رحمت کا حصہ پایا کہ ایک کامل انسان اور سید الرسل کہ جس سا کوئی پیدا نہ ہوا اور نہ ہو گا دنیا کی ہدایت کے لئے آیا اور دنیا کیلئے اس روشن کتاب کو لایا جس کی نظیر کسی آنکھ نے نہیں دیکھی پس یہ خدا کی کمال روحانیت کی ایک بزرگ تجلی تھی کہ جو اس نے ظلمت اور تاریکی کے وقت ایسا عظیم الشان نور نازل کیا جس کا نام فرقان ہے جو حق اور باطل میں فرق کرتا ہے جس نے حق کو موجود اور باطل کو نابود کر کے دکھلا دیا وہ اس وقت زمین پر نازل ہوا جب زمین ایک موت روحانی کے ساتھ مر چکی تھی اور بر اور بحر میں ایک بھاری فساد واقع ہو چکا تھا پس اس نے نزول فرما کر وہ کام کر دکھایا جس کی طرف اللہ نے آپ اشارہ فرما کر کہا ہے اِعْلَمُوا أَنَّ اللهَ يُحْيِ الاَ رُضَ بَعْدَ مَوْتِهَا (الحديد: 18) یعنی زمین مرگئی تھی اب خدا اس کو نئے سرے سے زندہ کرتا ہے۔(براہین احمدیہ - رخ جلد 1 صفحہ 419 418) لیلۃ القدر کے ایک اور معانی بھی ہیں خدا تعالیٰ نے میرے پر یہ نکتہ معارف قرآنیہ کا ظاہر کیا کہ اِنَّا أَنْزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ کے صرف یہی معانی نہیں کہ ایک بابرکت رات ہے جس میں قرآن شریف اترا بلکہ باوجود ان معنوں کے جو بجائے خود صحیح ہیں اس آیت کے بطن میں دوسرے معانی بھی ہیں جو رسالہ فتح اسلام میں درج کئے گئے ہیں۔(ازالہ اوہام -رخ- جلد 3 صفحہ 259) اب دیکھنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ نے اس سورہ مبارکہ میں صاف اور صریح لفظوں میں فرما دیا کہ جب کوئی مصلح خدا کی طرف سے آتا ہے تو ضرور دلوں کو حرکت دینے والے ملائکہ زمین پر نازل ہوتے ہیں تب ان کے نزول سے ایک حرکت اور تموج دلوں میں نیکی اور راہ حق کی طرف پیدا ہو جاتا ہے پس ایسا خیال کرنا یہ حرکت اور تموج بغیر ظہور صلح کے خود بخود پیدا ہو جاتا ہے خدا تعالیٰ کے پاک کلام اور اس کے قدیم قانون قدرت کے مخالف ہے اور ایسے اقوال صرف ان لوگوں کے منہ سے نکلتے ہیں جو الہی اسرار سے بے خبر محض اور صرف اپنے بے بنیاداوہام کے تابع ہیں بلکہ یہ آسمانی مصلح پیدا ہونے کی علامات خاصہ ہیں اور اس آفتاب کے گرد ذرات کی مانند ہیں۔ہاں اس حقیقت کو دریافت کرنا ہر ایک کا کام نہیں۔ایک دنیا دار کی دود آمیز نظر اس نور کو دریافت نہیں کر سکتی۔دینی صداقتیں اس کی نظر میں ایک ہنسی کی بات ہے اور معارف الہی اس کے خیال میں بیوقوفیاں ہیں۔(شہادت القرآن۔ر- خ جلد 6 صفحہ 314) مصلحین کی آمد کے ساتھ انتشار روحانیت ہوتا ہے اور اس جگہ یہ بات بھی یادر ہے کہ زمانے کے فساد کے وقت جب کوئی مصلح آتا ہے اسکے ظہور کے وقت آسمان سے ایک انتشار نورانیت ہوتا ہے یعنی اس کے اترنے کے ساتھ زمین پر ایک نور بھی اترتا ہے اور مستعد دلوں پر نازل ہوتا ہے تب دنیا خود بخود بشرط استعداد نیکی سعادت کے طریقوں کی طرف رغبت کرتی ہے اور ہر ایک دل تحقیق اور تدقیق کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور نہ معلوم اسباب سے طلب حق کے لئے ہر یک طبیعت مستعدہ میں