حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 278 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 278

278 ایک حرکت پیدا ہو جاتی ہے غرض ایک ایسی ہوا چلتی ہے جو مستعد دلوں کو آخرت کی طرف ہلا دیتی ہے اور سوئی ہوئی قوتوں کو جگادیتی ہے۔شہادت القرآن - ر - خ جلد 6 صفحہ 312 تا 313) إِنَّا أَنزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدر میں حضرت اقدس کی بعثت کی خبر ہے اس زمانہ کا نام بطور استعارہ کے لیلتہ القدر رکھا گیا ہے۔مگر درحقیقت یہ رات نہیں۔یہ ایک زمانہ ہے جو بوجہ ظلمت رات کے ہمرنگ ہے۔نبی کی وفات یا اس کے روحانی قائم مقام کی وفات جب ہزار مہینہ جو بشری عمر کے قریب الاختتام کرنے والا اور انسانی حواس کے الوداع کی خبر دینے والا ہے گذر جاتا ہے تو یہ رات اپنا رنگ جمانے لگتی ہے۔تب آسمانی کاروائی سے ایک یا کئی مصلحوں کی پوشیدہ طور پر تخمریزی ہو جاتی ہے جونئی صدی کے سر پر ظاہر ہونے کے لئے اندر ہی اندر طیار ہورہے ہیں۔اسی طرف اللہ جل شانہ اشارہ فرماتا ہے کہ لَيْلَةُ الْقَدْرِ ، خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شهر یعنی اس لیلۃ القدر کے نور کو دیکھنے والا اور صلح وقت کی صحبت سے شرف حاصل کرنے والا اس اتنی برس کے بڑھے سے اچھا ہے جس نے اس نورانی وقت کو نہیں پایا اور اگر ایک ساعت بھی اس کو پالیا ہے تو یہ ایک ساعت اس ہزار مہینے سے بہتر ہے جو پہلے گزر چکے۔کیوں بہتر ہے؟ اس لئے اس لیلۃ القدر میں خدا کے فرشتے اور روح القدس اس مصلح کے ساتھ رب جلیل کے اذن سے آسمان سے اترتے ہیں نہ عبث طور پر بلکہ اس لئے کہ تا مستعد دلوں پر نازل ہوں اور سلامتی کی راہیں کھولیں سو وہ تمام راہوں کے کھولنے اور تمام پر دوں کے اٹھانے میں مشغول رہتے ہیں یہاں تک کہ ظلمت غفلت دور ہو کر صبح ہدایت نمودار ہو جاتی ہے۔اب اے مسلما نو غور سے ان آیات کو پڑھو کہ کس قدر اللہ تعالیٰ اس زمانہ کی تعریف بیان فرماتا ہے جس میں ضرورت کے وقت پر کوئی مصلح دنیا میں بھیجتا ہے۔کیا تم ایسے زمانے کی قدر نہیں کرو گے۔کیا تم خدا تعالیٰ کے فرمودوں کو یہ نظر استہزاء دیکھو گے؟ (فتح اسلام۔ر۔خ جلد 3 صفحہ 32 تا33 حاشیہ )