حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 271 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 271

271 میں ترجمہ ہوں اور یا وہ لوگ خود اسلام کی زبان سے واقفیت پیدا کرلیں اور یہ دونوں امراس وقت غیر ممکن تھے۔لیکن قرآن شریف کا یہ فرمانا کہ وَمَنْ بَلَغ (الانعام: (20) یہ امید دلاتا تھا کہ ابھی اور بہت سے لوگ ہیں جو بھی تبلیغ قرآنی ان تک نہیں پہنچی ایسا ہی آیت و ۱ خَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ (جمعه: 4) اس بات کو ظاہر کر رہی تھی کہ گو آنحضرت ﷺ کی حیات میں ہدایت کا ذخیرہ کامل ہو گیا مگر ا بھی اشاعت ناقص ہے اور اس آیت میں جو منھم کا لفظ ہے وہ ظاہر کر رہا تھا کہ ایک شخص اس زمانہ میں جو تکمیل اشاعت کے لئے موزوں ہے مبعوث ہوگا جو آنحضرت ﷺ کے رنگ میں ہوگا اور اس کے دوست مخلص صحابہ کے رنگ میں ہوں گے۔۔۔اس وقت حسب منطوق آیت وَا خَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِہم اور نیز حسب منطوق قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا آنحضرت ﷺ کے دوسرے بعث کی ضرورت ہوئی اور ان تمام خادموں نے جوریل اور تار اور اگن بوٹ اور مطابع اور احسن انتظام ڈاک اور باہمی زبانوں کا علم اور خاص کر ملک ہند میں۔۔۔۔بزبان حال درخواست کی کہ یا رسول اللہ یہ ہم تمام خدام حاضر ہیں اور فرض اشاعت پورا کرنے کے لئے بدل و جان سرگرم ہیں۔آپ تشریف لائیے اور اس اپنے فرض کو پورا کیجئے کیونکہ آپ کا دعوی ہے کہ میں تمام کا فہ ناس کے لئے آیا ہوں اور اب یہ وہ وقت ہے کہ آپ ان تمام قوموں کو جو زمین پر رہتی ہیں قرآنی تبلیغ کر سکتے ہیں اور اشاعت کو کمال تک پہنچا سکتے ہیں اور اتمام حجت کے لئے تمام لوگوں میں دلائل حقانیت قرآن پھیلا سکتے ہیں۔تب آنحضرت کی روحانیت نے جواب دیا کہ دیکھو میں بروز کے طور پر آتا ہوں۔مگر میں ملک ہند میں آؤں گا کیونکہ جوش مذاہب و اجتماع جمیع ادیان اور مقابلہ جمیع ملل ونحل اور امن اور آزادی اسی جگہ ہے اور نیز آدم اسی جگہ نا زل ہوا تھا۔پس ختم دور زمانہ کے وقت بھی وہ جو آدم کے رنگ میں آتا ہے اسی ملک میں اس کو آنا چاہیے تا آخر اور اول کا ایک ہی جگہ اجتماع ہوکر دائرہ پورا ہو جائے۔(تحفہ گولڑویہ رخ جلد 17 صفحه 260 تا 263) روحانی زندگی کے لحاظ سے ہم تمام نبیوں میں سے اعلیٰ درجے پر اپنے نبی ﷺ کو زندہ سمجھتے ہیں اور قرآن شریف کی آیت وَاخَرينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بہم میں آنحضرت ﷺ کی آمد ثانی کا وعدہ دیا گیا ہے۔اس وعدہ کی ضرورت اسی وجہ سے پیدا ہوئی کہ تا دوسرا فرض منصبی آنحضرت ﷺ کا یعنی تکمیل اشاعت ہدایت دین جو آپ کے ہاتھ سے پورا ہونا چاہیے تھا اس وقت باعث عدم وسائل پورا نہیں ہوا۔سواس فرض کو آنحضرت ﷺ نے اپنی آمد ثانی سے جو بروزی رنگ میں تھی ایسے زمانہ میں پورا کیا جبکہ زمین کی تمام قوموں تک اسلام پہنچانے کے لئے وسائل پیدا ہو گئے تھے۔(تحفہ گولڑویہ۔ر۔خ جلد 17 صفحہ 263 حاشیہ )