حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 270
270 غیرت نہیں ہوتی کیونکہ وہ انہی کی صورت اور انہی کا نقش ہے لیکن دوسرے پر ضرور غیرت آتی ہے۔( مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ 440-439) بروز تکمیل اشاعت کے اعتبار سے قُلْ يَا يُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا الَّذِى لَهُ مُلْكُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ لَا إِلَهُ إِلَّا هُوَ يُحْيِ وَيُمِيتُ فَامِنُوا بِاللَّهِ وَ رَسُولِهِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ الَّذِي يُوَ مِنْ بِاللَّهِ وَ كَلِمَتِهِ وَ اتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ (الاعراف: 159) اس وقت کے تمام مخالف مولویوں کو ضرور یہ بات ماننی پڑے گی کہ چونکہ آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء تھے اور آپ کی شریعت تمام دنیا کے لئے عام تھی اور آپ کی نسبت یہ فرمایا گیا تھا۔وَلَكِنْ رَّسُوْلُ اللَّهِ وَخَاتَمَ النبينَ (الاحزاب : 41) اور نیز آپ کو یہ خطاب عطا ہوا تھا قُل اَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمُ جَمِيعًا سواگر چہ آنحضرت ﷺ کے عہد حیات میں وہ تمام متفرق ہدا یتیں جو حضرت آدم سے حضرت عیسی تک تھیں۔قرآن شریف میں جمع کی گئیں لیکن مضمون آیت قُلْ يَايُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمُ جميعا (الاعراف: 159) آنحضرت ﷺ کی زندگی میں عملی طور پر پورا نہیں ہوسکا۔کیونکہ کامل اشاعت اس پر موقوف تھی کہ تمام ممالک مختلفہ یعنی ایشیا اور یورپ اور افریقہ اور امریکہ اور آبادی دنیا کے انتہائی گوشوں تک آنحضرت ﷺ کی زندگی میں ہی تبلیغ قرآن ہو جاتی اور یہ اس وقت غیر ممکن تھا بلکہ اس وقت تک تو دنیا کی کئی آبادیوں کا ابھی پتہ بھی نہیں لگا تھا اور دور دراز سفروں کے ذرائع ایسے مشکل تھے کہ گو یا معدوم تھے بلکہ اگر وہ ساٹھ برس الگ کر دیے جائیں جو اس عاجز کی عمر کے ہیں تو 7 125 ہجری تک بھی اشاعت کے وسائل کا ملہ گویا کا لعدم تھے اور اس زمانہ تک امریکہ کل اور یورپ کا اکثر حصہ قرآنی تبلیغ اور اس کے دلائل سے بے نصیب رہا ہوا تھا بلکہ دور دور ملکوں کے گوشوں میں تو ایسی بے خبری تھی کہ گویا وہ لوگ اسلام کے نام سے بھی ناواقف تھے۔غرض آیت موصوفہ بالا میں جوفر مایا گیا تھا کہ اے زمین کے باشندو! میں تم سب کی طرف رسول ہوں عملی طور پر اس آیت کے مطابق تمام دنیا کو ان دنوں سے پہلے ہرگز تبلیغ نہیں ہوسکی اور نہ اتمام حجت ہوا کیونکہ وسائل اشاعت موجود نہیں تھے اور نیز زبانوں کی اجنبیت سخت روک تھی اور نیز یہ کہ دلائل حقانیت اسلام کی واقفیت اس پر موقوف تھی کہ اسلامی ہدایتیں غیر زبانوں