حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 254 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 254

254 خدا تعالیٰ نے میرا نام ذوالقرنین بھی رکھا کیونکہ خدا تعالیٰ کی میری نسبت یہ وحی مقدس کہ جرى اللهِ فِي حُلل الانبیاء جس کے یہ معنے ہیں کہ خدا کا رسول تمام نبیوں کے پیرایوں میں یہ چاہتی ہے کہ مجھ میں ذوالقرنین کے بھی صفات ہوں کیونکہ سورۃ کہف سے ثابت ہے کہ ذوالقرنین بھی صاحب وہی تھا۔خدا تعالیٰ نے اس کی نسبت فرمایا ہے قُلْنَائِذَا الْقَرْنَيْنِ۔پس اس وحی الہی کی رو سے کہ جَرِيُّ اللَّهِ فِي حُلَلِ الْأَنْبِيَاءِ اس امت کے لیے ذوالقرنین میں ہوں اور قرآن شریف میں مثالی طور پر میری نسبت پیشگوئی موجود ہے مگر ان کے لئے جو فراست رکھتے ہیں۔یہ تو ظاہر ہے کہ ذوالقرنین وہ ہوتا ہے جو دوصدیوں کو پانے والا ہو اور میری نسبت یہ عجیب بات ہے کہ اس زمانے کے لوگوں نے جس قدر اپنے اپنے طور پر صدیوں کی تقسیم کر رکھی ہے ان تمام تقسیموں کے لحاظ سے جب دیکھا جائے تو ظاہر ہو گا کہ میں نے ہر ایک قوم کی دوصدیوں کو پالیا ہے میری عمر اس وقت تخمیناً 67 سال ہے پس ظاہر ہے کہ اس حساب سے جیسا کہ میں نے دو ہجری صدیوں کو پالیا ہے ایسا ہی دو عیسائی صدیوں کو بھی پالیا ہے ایسا ہی دو ہندی صدیوں کو بھی جن کا سن بکرماجیت سے شروع ہوتا ہے۔اور میں نے جہاں تک ممکن تھا قدیم زمانے کے تمام ممالک شرقی اور غربی کی مقرر شدہ صدیوں کا ملاحظہ کیا ہے کوئی قوم ایسی نہیں جس کی مقرر کردہ صدیوں میں سے دوصد ئیں میں نے نہ پائی ہوں اور بعض احادیث میں بھی آچکا ہے کہ آنے والے مسیح کی ایک یہ بھی علامت ہے کہ وہ ذوالقر نین ہوگا۔غرض بموجب نص وحی الہی کے میں ذوالقرنین ہوں اور جو کچھ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف کی ان آیتوں کی نسبت جو سورۃ کہف میں ذوالقرنین کے قصہ کے بارے میں ہیں اور میرے پر پیش گوئی کے رنگ میں معنے کھولے ہیں۔میں ذیل میں ان کو بیان کرتا ہوں۔مگر یادر ہے کہ پہلے معنوں سے انکار نہیں ہے وہ گزشتہ سے متعلق ہیں یہ آئندہ کے متعلق۔اور قرآن شریف صرف قصہ گو کی طرح نہیں ہے بلکہ اس کے ہر ایک قصہ کے نیچے پیشگوئی ہے اور ذوالقرنین کا قصہ مسیح موعود کے زمانہ کے لیے ایک پیشگوئی اپنے اندر رکھتا ہے جیسا قرآن شریف کی عبارت یہ ہے۔وَيَسْتَلُونَكَ عَنْ ذِي الْقَرْنَيْنِ قُلْ سَتْلُوا عَلَيْكُم مِّنْهُ ذِكْرًا۔یعنی یہ لوگ تجھ سے ذوالقرنین کا حال دریافت کرتے ہیں ان کو کہو کہ میں ابھی تھوڑا سا تذکرہ ذوالقرنین کا تم کو سناؤں گا اور بعد اس کے فرمایا۔إِنَّا مَكَّنَّا لَهُ فِي الْأَرْضِ وَآتَيْنَهُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ سَبَبًا۔یعنی ہم اس کو یعنی مسیح موعود کو جو ذوالقرنین بھی کہلائے گا روئے زمین پر ایسا مستحکم کریں گے کہ کوئی اس کو نقصان نہ پہنچا سکے گا اور ہم ہر طرح سے ساز و سامان اس کو دے دیں گے اور اس کی کاروائیوں کو سہل اور آسان کر دیں گے۔یادر ہے کہ یہ وحی براہین احمدیہ صص سابقہ میں بھی میری نسبت ہوئی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلَمْ نَجْعَلْ لَّكَ سُهَوْلَةٌ فِي كُلِّ أَمْرِ یعنی کیا ہم نے ہر ایک امر میں تیرے لئے آسانی نہیں کر دی یعنی کیا ہم نے تمام وہ سامان تیرے لئے میسر نہیں کر دیئے جو تبلیغ اور اشاعت حق کے لئے ضروری تھے جیسا کہ ظاہر ہے کہ اس نے میرے لیے وہ سامان تبلیغ اور اشاعت حق کے میسر کر دیئے جو کسی نبی کے وقت میں موجود نہ تھے۔تمام قوموں کی آمد ورفت کی راہیں کھولی گئیں۔طے مسافرت کے