حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 253 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 253

253 اصحاب کہف اور رقیم سے مراد حضرت اقدس ہیں أَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحَبُ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ كَانُوا مِنُ ابْتَنَا عَجَبًا۔(الكيف: 10) میں دیکھتا ہوں براہین میں میرا نام اصحاب الکہف بھی رکھا ہے۔اس میں یہ سر ہے کہ جیسے کہ وہ خفی تھے اسی طرح پر تیرہ سو برس سے یہ راز مخفی رہا اور کس پر نہ کھلا اور ساتھ اس کے جو قیم کا لفظ ہے اس سے معلوم ہوتا ہے باوجود مخفی ہونے کہ اس کے ساتھ ایک کتبہ بھی ہے اور وہ کتبہ یہی ہے کہ تمام نبی اس کے متعلق پیشگوئی کرتے چلے آئے ہیں۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 313-314) محدث کا الہام مطعی اور یقینی ہوتا ہے فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَا أَتَيْنَهُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ عَلَّمْنَهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا۔(الكيف: 66) پس جبکہ بہر صورت ثابت ہے کہ خضر کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے علم یقینی اور قطعی دیا گیا تھا تو پھر کیوں کوئی شخص مسلمان کہلا کر اور قرآن شریف پر ایمان لا کر اس بات سے منکر رہے کہ کوئی فرد بشر امت محمدیہ میں سے باطنی کمالات میں خضر کی مانند نہیں ہوسکتا بلا شبہ ہوسکتا ہے بلکہ خدائے حی و قیوم اس بات پر قادر ہے کہ امت مرحومہ کے افراد خاصہ کو اُس سے بھی بہتر و زیادہ تر باطنی نعمتیں عطا فرما دے۔اَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔( براہین احمدیہ۔رخ جلد 1 صفحہ 295 حاشیہ درحاشیه ) حضرت اقدس کا نام ذوالقرنین ہے وَيَسْتَلُوْ نَكَ عَنْ ذِي الْقَرْنَيْنِ قُلْ سَاتْلُو اعَلَيْكُمْ مِّنْهُ ذِكْرًا إِنَّامَكَنَّا لَهُ فِي الْأَرْضِ وَآتَيْنَهُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ سَبَبًا فَأَتْبَعَ سَببًا حَتَّى إِذَا بَلَغَ مَعْربَ الشَّمْس وَجَدَ عِنْدَهَا تَغُرُبُ فِى عَيْنٍ حَمِئَةٍ وَّ وَجَدَ عِنْدَ هَا قَوْمَادُّ قُلْنَا يذَا الْقَرْنَيْنِ إِمَّا أَنْ تُعَذِّبَ وَإِمَّا أَنْ تَتَّخِذَ فِيهِمْ حُسْنًا قَالَ أَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهُ ثُمَّ يُرَدُّ إِلَى رَبِّهِ فَيُعَذِّبُهُ عَذَابًا نُكَرًا وَأَمَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُ جَزَاءَ نِ الْحُسْنَى وَسَنَقُولُ لَهُ مِنْ أَمْرِ نَا يُسْرًا ثُمَّ أَتْبَعَ سَبَبًا حَتَّى إِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلى قَوْمٍ لَمْ نَجْعَلْ لَّهُمْ مِنْ دُونِهَا سِتّرًا هِ كَذَلِكَ وَقَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَيْهِ خُبْرًا ثُمَّ اتَّبَعَ سَبَبًاO حَتَّى إِذَا بَلَغَ بَيْنَ السَّدَّيْنِ وَجَدَ مِنْ دُونِهِمَا قَوْ مَّا لَّا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ قَوْلًا قَالُوا يَذَ الْقَرُ نَيْنِ إِنَّ يَاجُوجَ وَمَاجُوجَ مُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلَى أَنْ تَجْعَلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ سَدًّا قَالَ مَا مَكَّنِيْ فِيْهِ خَيْرٌ فَاعِيْنُونِى بِقُوَّةٍ اَجْعَلُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ رَدْمًا أَتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ حَتَّى إِذَا سَاوِي بَيْنَ الصَّدَفَيْنِ قَالَ انْفُخُوا حَتَّى إِذَا جَعَلَهُ نَارًا قَالَ اتُونِي أَفْرِغْ عَلَيْهِ قِطْرًا فَمَا اسْطَاعُوْا اَنْ يَظْهَرُوهُ وَمَا اسْتَطَاعُرُ الَهُ نَقْبًا قَالَ هَذَا رَحْمَةٌ مِنْ رَّبِي فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ رَبِّي جَعَلَهُ دَكَّاءَ وَكَانَ وَعْدُ رَبِّي حَقًّا وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ O يَمُوجُ فِي بَعْضٍ ونُفِخَ فِي الصُّورِ فَجَمَعْنَهُمْ جَمْعًا وَّ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لِلْكَفِرِينَ عَرَضَانِ الَّذِيْنَ كَانَتْ أَعْيُنُهُمْ فِي غِطَاءٍ عَنْ ذِكْرِى وَكَانُوالَا يَسْتَطِيعُونَ سَمْعًان (الكهف : 84-102)