حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 242 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 242

242 مردے زندہ کئے جانے کے فرمان کے اعتبار سے قَالَ رَبِّ فَانْظُرْنِى إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِيْنَ۔(الحجر: 3837) وَ إِنَّ ادَمَ هَوَى مِنْ قَبْلُ فِي مَصَافٍ۔وَهَزَمَهُ الشَّيْطَانُ فَمَارَأَى الْغَلَبَةَ إِلَى سِتَّةِ الْافٍ وَ مُزَقَتْ ذُرِّيَّتُهُ وَ فُرِّقَتْ فِي أَطْرَافِ فَإِلى كَمْ يَكُونُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمُنْظَرِيْنَ۔أَلَمْ يُغْوِ النَّاسِ أَجْمَعِيْنَ إِلَّا قَلِيْلًا مِنْ عِبَادِ اللهِ الصَّالِحِيْنَ۔فَقَدْ أَتَمَّ أَمْرَهُ وَ كَمَّلَ فِعْلَهُ وَ حَانَ أَنْ يُعَانَ آدَمُ مِنْ رَّبِّ الْعَالَمِيْنَ۔وَلَا شَكَ وَلَا شُبْهَةَ أَنَّ إِنْظَارَ الشَّيْطَانِ كَانَ إِلَى آخِرِ الزَّمَانِ كَمَا يُفْهَمُ مِنَ الْقُرْآنِ۔أَعْنِي لَفْظَ الْإِنْظَارِ الَّذِي جَاءَ فِي الْفُرْقَانِ۔فَإِنَّ اللهَ خَاطَبَهُ وَ قَالَ إِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِيْنَ إِلَى يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ يَعْنِى يَوْمِ الْبَعْثِ الَّذِي يُبْعَثُ النَّاسُ فِيهِ بَعْدَ مَوْتِ الضَّلَالَةِ بِإِذْنِ الْحَيِّ الْقَيُّوْمِ۔وَلَا شَكَ أَنَّ هَذَا الْيَوْمَ يَوْمَ يُشَابِهُ يَوْمَ خَلْقَةِ آدَمَ بِمَا اَرَادَ اللَّهُ فِيْهِ أَنْ يَخْلُقَ مَثِيْلَ آدَمَ ثُمَّ يَبُثُّ فِي الْأَرْضِ ذُرِّيَّتَهُ الرُّوْحَانِيَّةَ وَيَجْعَلَهُمْ فَوْقَ كُلَّ مَنْ قُطِعَ مِنَ اللَّهِ وَ تَجَدَّمَ وَ اشْتَدَّتِ الْحَاجِةُ إِلَى ادَمَ الثانِي فِي آخِرِ الزَّمَان لِيَتَدَارَكَ مَا فَاتَ فِى اَوَّلِ الْآوَان وَلِيَتِمَّ وَعِيْدُ اللهِ فِى الشَّيْطَان فَإِنَّ الله جَعَلَهُ مِنَ الْمُنْظَرِينَ إِلَى آخِرِ الدُّنْيَا وَ أَشَارَ فِيْهِ إِلى اِهْلَاكِهِ وَ اِخْرَا جهِ مِنْ أَمْلاكِه۔(خطبہ الہامیہ۔رخ - جلد 16 صفحہ 320-321) ( ترجمہ ) اور یقیناً آدم اس سے قبل میدان مقابلہ میں گر گئے تھے اور شیطان نے انہیں شکست دے دی تھی پس چھ ہزار سال تک وہ غلبہ کو نہ دیکھ سکے۔ان کی اولاد پراگندہ ہوگئی اور اطراف عالم میں منتشر کر دی گئی۔پس کب تک شیطان مہلت پائے گا۔کیا اس نے سب لوگوں کو گمراہ نہیں کیا بجز اس تھوڑی تعداد کے جو اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی تھی۔سو اس نے اپنا کام پورا کر لیا اور اپنا عمل مکمل کر لیا اور اب وقت آ گیا ہے کہ خدائے رب العالمین کی طرف سے حضرت آدم کی مدد کی جائے۔اور یہ بات بلا شک وشبہ درست ہے کہ شیطان کا مہلت پانا جیسا کہ قرآن مجید سے سمجھا جاتا ہے آخر الزمان تک تھا۔میری مراد لفظ انظار “ سے ہے جو قرآن مجید میں وارد ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اسے مخاطب ہو کر فرمایا تھا۔انگ مِنَ الْمُنْظَرِيْنَ إِلَى يَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ الحجر 39-38) یعنی تجھے اس وقت تک مہلت دی جاتی ہے جب لوگ گمراہی کی موت کے بعد خداۓحی و قیوم کے اذن سے دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔حقیقت میں یہ دن حضرت آدم کی پیدائش کے دن سے مشابہت رکھتا ہے اس وجہ سے کہ اللہ نے آج ارادہ فرمایا ہے کہ مثیل آدم کو پیدا کرے اور روئے زمین پر اس کی روحانی اولاد کو پھیلا دے اور ان تمام لوگوں پر ان کو غالب کرے جو اللہ تعالیٰ سے کٹ گئے اور اس سے علیحدہ ہو گئے اور آخری زمانہ میں آدم ثانی کی اشد ضرورت پیدا ہوگئی تاکہ پہلے زمانہ میں جو کوتاہی ہوئی ہے اس کی تلافی کرے اور شیطان کے بارہ میں اللہ تعالیٰ کی وعید پوری ہو۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے دنیا کے آخر تک شیطان کو مہلت پانے والوں میں قرار دیا اور اشارہ کیا کہ وہ اس وقت ہلاک کیا جائے گا اور اپنی قوتوں سے محروم کیا جائے گا۔(خطبہ الہامیہ۔ر۔خ۔جلد 16 صفحہ 320-321)