حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 243 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 243

243 بنی نوع انسان کی ہمدردی کے اعتبار سے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء:4) چونکہ ( حقانی ریفارمر ) بنی نوع کی ہمدردی میں محو ہوتے ہیں اس لئے رات دن سوچتے رہتے ہیں اور اس فکر میں گڑ ھتے رہتے ہیں کہ لوگ کسی نہ کسی طرح اس راہ پر آجائیں اور ایک بار اس چشمہ سے ایک گھونٹ پی لیں۔یہ ہمدردی یہ جوش ہمارے سید و مولی نبی کریم ﷺ میں غایت درجہ کا تھا اس سے بڑھ کر کسی دوسرے میں ہوسکتا ہی نہیں۔چنانچہ آپ کی ہمدردی اور غمگساری کا یہ عالم تھا کہ خود اللہ تعالیٰ نے اس کا نقشہ کھینچ کر دکھایا ہے۔لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِینَ یعنی کیا تو اپنی جان کو ہلاک کر دے گا اس غم میں کہ یہ کیوں مومن نہیں ہوتے۔اس آیت کی حقیقت آپ پورے طور پر نہ سمجھ سکیں تو جدا امر ہے مگر میرے دل میں اس کی حقیقت یوں پھرتی ہے جیسے بدن میں خون۔بدل در دیگه دارم از برائے طالبان حق ن گردد بیان آن درد از تقریر کوتاهم ترجمہ: میرے دل میں صداقت کے متلاشیوں کے لئے ایسا درد ہے کہ اس کو اپنی زبان سے بیان نہیں کر سکتا۔میں خوب سمجھتا ہوں کہ ان حقانی واعظوں کو کس قسم کا جانگداز در داصلاح خلق کا لگا ہوا ہوتا ہے۔دعوت اور تبلیغ عام کے اعتبار سے ( ملفوظات جلد اول صفحہ 268) تَبْرَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَى عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَلَمِيْنَ نَذِيرًا (الفرقان:2) ہم نے اس لئے بھیجا ہے کہ تمام دنیا کوڈراوے لیکن ہم بڑے زور سے کہتے ہیں کہ قرآن شریف سے پہلے دنیا کی کسی الہامی کتاب نے یہ دعویٰ نہیں کیا بلکہ ہر ایک نے اپنی رسالت کو اپنی قوم تک ہی محدود رکھا۔یہاں تک کہ جس نبی کو عیسائیوں نے خدا قرار دیا اس کے منہ سے بھی یہی نکلا کہ میں اسرائیل کی بھیڑوں کے سوا اور کسی کی طرف نہیں بھیجا گیا اور زمانہ کے حالات نے بھی گواہی دی کہ قرآن شریف کا یہ دعوی تبلیغ عام کا عین موقع پر ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ کے ظہور کے وقت تبلیغ عام کا دروازہ کھل گیا تھا اور آنحضرت ﷺ نے خود اپنے ہاتھ سے بعد نزول اس آیت کے کہ قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنّى رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا (الاعراف: 159) دنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں کی طرف دعوت اسلام کے خط لکھے تھے کسی اور نبی نے غیر قوموں کے بادشاہوں کی طرف دعوت دین کے ہرگز خطوط نہیں لکھے کیونکہ وہ دوسری قوموں کی دعوت کے لئے مامور نہ تھے یہ عام دعوت کی تحریک آنحضرت ﷺ کے ہاتھ سے ہی شروع ہوئی اور سیح موعود کے زمانہ میں اور اس کے ہاتھ سے کمال تک پہنچی۔(چشمہ معرفت۔رخ جلد 23 صفحہ 76-77)