حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 241 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 241

241 اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہی دابتہ الارض جو ان آیات میں مذکور ہے جس کا مسیح موعود کے زمانہ میں ظاہر ہونا ابتداء سے مقرر ہے یہی وہ مختلف صورتوں کا جانور ہے جو مجھے عالم کشف میں نظر آیا اور دل میں ڈالا گیا کہ یہ طاعون کا کیڑا ہے اور خدا تعالیٰ نے اس کا نام دابتہ الارض رکھا کیونکہ زمین کے کیڑوں میں سے ہی یہ بیماری پیدا ہوتی ہے۔اسی لئے پہلے چوہوں پر اس کا اثر ہوتا ہے اور مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتی ہے اور جیسا کہ انسان کو ایسا ہی ہر ایک جانور کو یہ بیماری ہو سکتی ہے اسی لئے کشفی عالم میں اس کی مختلف شکلیں نظر آئیں۔نزول المسیح رخ جلد 18 صفحہ 415-416) نئی زمین اور نیا آسمان کے اعتبار سے يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَوَاتِ وَبَرَزُو اللَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ (ابراهيم: 49 ) صورت عالم پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہزار ششم میں زمین پر ایک انقلاب عظیم آیا ہے۔بالخصوص اس ساٹھ برس کی مدت میں کہ جو تخمیناً میری عمر کا اندازہ ہے۔اس قدر صریح تغیر صفحہ ہستی پر ظہور پذیر ہے کہ گویا وہ دنیا ہی نہیں رہی نہ وہ سواریاں رہیں اور نہ وہ طریق تمدن رہا اور نہ بادشاہوں میں وہ وسعت اقتدار حکومت رہی نہ وہ راہ رہی اور نہ وہ مرکب اور یہاں تک ہر ایک بات میں جدت ہوئی کہ انسان کی پہلی طرزیں تمدن کی گویا تمام مفسوخ ہو گئیں اور زمین اور اہل زمین نے ہر ایک پہلو میں گویا پیرا یہ جدید پہن لیا اور بُدِّلَتِ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ کا نظارہ آنکھوں کے سامنے آگیا۔(تحفہ گولڑویہ۔رخ جلد 17 صفحہ 286) مردہ زمین کو زندہ کرنے کے انتہار سے اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الاَ رُضَ بَعْدَ مَوْتِهَا قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَتِ لَعَلَّكُمُ تَعْقِلُونَ O (الحديد : 18) خدا تعالیٰ کے ساتھ صدق ، وفاداری، اخلاص ، محبت اور خدا پر توکل کالعدم ہو گئے ہیں اب خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا ہے کہ پھر نئے سرے سے ان قوتوں کو زندہ کرے۔وہ خدا ہمیشہ يُحْيِ الَّا رُضَ بَعْدَ مَوْتِهَا کرتا رہا ہے اس نے ارادہ کیا ہے اور اس کے لئے کئی راہیں اختیار کی گئی ہیں ایک طرف مامور کو بھیج دیا ہے جو نرم الفاظ میں دعوت کرے اور لوگوں کو ہدایت کرے دوسری طرف علوم وفنون کی ترقی ہے اور عقل آتی جاتی ہے۔( ملفوضات جلد سوم صفحہ 580)