حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 211
211 کا سر الصلیب ہونے کے اعتبار سے حتى إِذَا فُتِحَتْ يَاجُوجُ وَ مَاجُوجُ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُوْنَ (انبياء: 97) حضرت اقدس نے جو حجرہ دعائیہ بنایا ہے۔اس کی نسبت فرمایا کہ: - ہمارا اس سے بڑا کام تو کسر صلیب ہے اگر یہ کام ہو جاوے تو ہزاروں شبہات اور اعتراضات کا جواب خود بخودہی ہو جاتا ہے اور اسی کے ادھورا رہنے سے سینکڑوں اعتراضات ہم پر وارد ہو سکتے ہیں۔دیکھا گیا ہے کہ چالیس یا پچاس کتا ہیں لکھی ہیں مگر ان سے ابھی وہ کام نہیں نکلا جس کے لئے ہم آئے ہیں۔اصل میں ان لوگوں نے جس طرح قدم جمائے اور اپنا دام فریب پھیلایا ہے وہ ایسا نہیں کہ کسی انسانی طاقت سے درہم برہم ہو سکے۔دانا آدمی جانتا ہے کہ اس قوم کا تختہ کس طرح پلٹا جا سکتا ہے۔یہ کام بجز خدائی ہاتھ کے انجام پذیر ہوتا نظر نہیں آتا اسی واسطے ہم نے ان ہتھیاروں یعنی قلم کو چھوڑ کر دعا کے واسطے یہ مکان ( حجرہ) بنوایا ہے کیونکہ دعا کا میدان خدا نے بڑا وسیع رکھا ہے اس کی قبولیت کا بھی اس نے وعدہ فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ مین گلِ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ۔(الانبیاء: 97) اس امر کے اظہار کے واسطے کافی ہے کہ یہ کل دنیا کی زمینی طاقتوں کو زیر پا کریں گے ورنہ اس کے سوا اور کیا معنے ہیں؟ کیا یہ تو میں دیواروں اور ٹیلوں کو کو دتی پھاندتی پھریں گی ؟ نہیں بلکہ اس کے یہی معنے ہیں کہ وہ دنیا کی کل ریاستوں اور سلطنتوں کو زیر پا کر لیں گی اور کوئی طاقت ان کا مقابلہ نہ کر سکے گی۔اب خدا کی غیرت نے نہ چاہا کہ اس کی توحید اور جلال کی بہتک ہو اور اس کے رسول کی زیادہ بے عزتی کی جاوے۔اس کی غیرت نے تقاضا کیا کہ اپنے نور کواب روشن کرے اور سچائی اور حق کا غلبہ ہوسواس نے مجھے بھیجا اور اب میرے دل میں تحریک پیدا کی کہ میں ایک حجرہ بیت الدعا صرف دعا کے واسطے مقرر کروں اور بذریعہ دعا کے اس فساد پر غالب آؤں تا کہ اول آخر سے مطابق ہو جاوے اور جس طرح سے پہلے آدم کو دعا ہی کے ذریعہ سے شیطان پر فتح نصیب ہوئی تھی اب آخری آدم کے مقابل پر آخری شیطان پر بھی بذریعہ دعا کے فتح ہو۔(ملفوظات جلد سوم صفحہ 192) ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 191)