حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 210 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 210

210 میں تو آیا اس جہاں میں ابن مریم کی طرح میں نہیں مامور از بهر جهاد و کار زار پر اگر آتا کوئی جیسی انہیں امید تھی اور کرتا جنگ اور دیتا غنیمت بے شمار ایسے مہدی کے لئے میداں کھلا تھا قوم میں پھر تو اس پر جمع ہوتے ایک دم میں صد ہزار پر یہ تھا رحم خداوندی کہ میں ظاہر ہوا آگ آتی گر نہ میں آتا تو پھر جاتا قرار آگ بھی پھر آ گئی جب دیکھ کر اتنے نشاں قوم نے مجھ کو کہا کذاب ہے اور بدشعار ہے یقیں یہ آگ کچھ مدت تلک جاتی نہیں ہاں مگر توبہ کریں باصد نیاز و انکسار ( در شین اردو صفحه 137 ) ( براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 21 صفحہ 138 ) ایک شخص کا اس اُمت میں سے مسیح کے نام پر آنا ضروری ہے۔کیوں ضروری ہے۔تین وجہ سے۔اوّل یہ کہ مماثلت تامہ کاملہ ہمارے نبی ﷺ کی حضرت موسیٰ سے جو آیت كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولاً سے مفہوم ہوتی ہے اس بات کو چاہتی ہے۔وجہ یہ کہ آیت انا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُوْلًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا اَرْسَلْنَا إِلى فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا (المزمل: (16) صاف بتلا رہی ہے کہ جیسے حضرت موسی اپنی اُمت کی نیکی بدی پر شاہد تھے ایسا ہی ہمارے عملہ بھی شاہد ہیں مگر یہ شہادت دوامی طور پر بجز صورت استخلاف کے حضرت موسیٰ" کے لئے ممکن نہیں ہوئی یعنی خدا تعالیٰ نے اسی اتمام حجت کی غرض سے حضرت موسی کے لئے چودہ سو برس تک خلیفوں کا سلسلہ مقرر کیا جو در حقیت توریت کے خادم اور حضرت موسیٰ کی شریعت کی تائید کے لئے آتے تھے تا خدا تعالیٰ بذریعہ ان خلیفوں کے حضرت موسیٰ" کی شہادت کے سلسلہ کو کامل کر دیوے اور وہ اس لائق ٹھہر ہیں کہ قیامت کو تمام بنی اسرائیل کی نسبت خدا تعالیٰ کے سامنے شہادت دے سکیں ایسا ہی اللہ جل شانہ نے اسلامی اُمت کے کل لوگوں کیلئے ہمارے نبی ﷺ کو شاہد ٹھہرایا ہے اور فرمایا إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُوْلًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ اور فرمایا وَجِئْنَا بِكَ عَلى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا (النساء :42) مگر ظاہر ہے کہ ظاہری طور پر تو آنحضرت علی صرف تئیس برس تک اپنی اُمت میں رہے پھر یہ سوال کہ دائمی طور پر وہ اپنی اُمت کے لئے کیونکر شاہد ٹھہر سکتے ہیں یہی واقعی جواب رکھتا ہے کہ بطور استخلاف کے یعنی موسیٰ علیہ السلام کی مانند خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے لئے بھی قیامت تک خلیفے مقرر کر دیئے اور خلیفوں کی شہادت بعنیہ آنحضرت ﷺ کی شہادت متصور ہوئی اور اس طرح پر مضمون آیت إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ۔ہریک پہلو سے درست ہو گیا۔غرض شہادت دائمی کا عقیدہ جو نص قرآنی سے متواتر ثابت اور تمام مسلمانوں کے نزدیک مسلم ہے تبھی معقولی اور تحقیقی طور پر ثابت ہوتا ہے جب خلافت دائمی کو قبول کیا جائے اور یہ امر ہمارے مدعا کو ثابت کرنے والا ہے فتدبر۔شہادت القرآن۔رخ جلد 6 صفحه 362 تا 363)