حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page xxiv of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page xxiv

xxi إِنَّهُ لَقَوْلٌ فَصْلٌ (الطارق : 14) اور آپ کا منصب حکم و عدل دراصل ایک ہی تصویر کے دورخ ہیں۔اس استعارے میں ایک اور عظیم الشان حقیقت بھی مضمر ہے یعنی یہ کہ جبکہ آپ اس قلعہ کی دوسری دیوار اور حصار ہیں تو اس سے ثابت ہوا کہ اسلام کے قلعہ کو ایک طرف سے کھلا رکھا گیا تھا۔اس دروازے اور دیوار کو کھلا رکھنے میں حکمت یہ تھی کہ امت مسلمہ آزادی کے ساتھ قرآن کریم کی تعلیم پر غور و فکر کر سکے اور آنحضرت ﷺ کے فرمودات اور اسوہ حسنہ کی تدوین اور تبویب ہو کر دینی علوم ہر طبقہ فکر و خیال کے فہم کے مطابق ظاہر ہو جائیں۔چنانچہ قرآن کریم کے بے شمار مفسرین ہیں۔حدیث رسول کی متعد دصحاح اور مسانید ہیں اور فقہا کے متفرق مسالک ہیں اور دین اسلام کے ان گنت متکلمین ہیں۔اور جب اس آزادی فکر و خیال کے نتیجے میں قرآن کریم کے مفسرین اور متکلمین اور فقہا میں استنباط فی القرآن اور صحت حدیث رسول اکرم کے بارے میں اختلافات پیدا ہوں تو دین اسلام میں ان اختلافات کو ختم کرنے کے لئے اور قرآن کریم کے فرمودات کے حقیقی معانی بتانے کے لئے اور حقیقی اسوۂ رسول کو ظاہر کرنے کے لئے ایک حکم و عدل نازل ہو جو ان تمام اختلافات کو الہام الہی اور روح القدس کی تائید کے ساتھ ختم کرے اور دین اسلام کو اندرونی اور بیرونی حملوں سے محفوظ کرنے کے لئے اس قلعہ کی دوسری دیوار کو پشتی و دیوار دیں اور مامنِ اسلام بن کر استوار کر دے۔ان گزارشات کی تصدیق میں حضرت اقدس کا درج ذیل فرمان ہے۔جو اس مضمون کے تمام دلائل اور استدلال کو ایک منطقی نتیجے کے طور پر بیان کر رہا ہے۔میرے پاس آؤ اور میری آواز سنو ! میری حیثیت ایک معمولی مولوی کی حیثیت نہیں بلکہ میری حیثیت سنن انبیاء کی سی حیثیت ہے۔مجھے ایک سماوی آدمی مانو۔پھر یہ سارے جھگڑے اور تمام نزا ئیں جو مسلمانوں میں پڑی ہوئی ہیں، ایک دم میں طے ہو سکتی ہیں۔جو خدا کی طرف سے مامور ہو کر حکم بن کر آیا ہے۔جو معنی قرآن شریف کے وہ کرئے وہی صحیح ہوں گے اور جس حدیث کو وہ صحیح قرار دے گا وہی حدیث صحیح ہوگی۔“ ان فرمودات کی راہ نمائی میں حضرت اقدس پر قرآن کریم کے دقائق اور معارف کے نازل ہونے کے مقاصد کے تعلق میں چندا مور تو روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتے ہیں۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 399 ) اول یہ کہ جب تک حضرت اقدس کا دور خسروی ہے اس وقت کی ضرورتوں اور تقاضوں سے عہدہ براء ہونے کے لئے جسقدر معارف قرآن نازل کرنے اللہ تعالیٰ نے درست خیال فرمائے ان کا اظہار کامل طور پر حضرت اقدس پر کر دیا گیا ہے۔اور دوم یہ کہ جو معارف قرآنیہ آپ کو عطا ہوئے ہیں وہ ان دعاوی کی صداقت کو ثابت کرنے کے لئے ہیں جن کے آپ حکم الہی کے تحت مدعی ہیں۔