حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page xxiii of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page xxiii

XX ( ترجمه از مرتب ) اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے دو احمد وں کا ذکر فرما کر ہر دوکو اپنی بے پایاں نعمتوں میں شمار کیا ہے۔ان میں سے پہلے احمد تو ہمارے نبی احمد مصطفے اور رسول مجتبی صلی اللہ علیہ سلم ہیں اور دوسرا احمد احمد آخر الزمان ہے جس کا نام محسن خدا کی طرف سے مسیح اور مہدی بھی رکھا گیا ہے۔یہ نکتہ میں نے خدا تعالیٰ کے قول الحمد لله رب العالمین سے اخذ کیا ہے۔پس ہر غور و فکر کرنے والے کو غور کرنا چاہئے۔دین اسلام کی تعلیم یعنی قرآن کریم کی حفاظت کی نسبت سے ان دو ہستیوں کے منصب کے بیان میں ذیل کا فرمان تو اس قابل ہے کہ اس کو آب زر سے لکھا جائے۔سورۃ قصص کی مذکورہ آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔فحاصل هذا البيان ان الله خلق احمدین فی صدر الاسلام و في اخر الزمان۔و اشار اليهما بتكرار لفظ الـحــمــد في اول الفاتحة و في اخرها لا هل العرفان و فعل کذالک ليرد على النصرانيين۔و انزل احمدين من السماء ليكونا كا لجدارين لحماية الأولين و الآخرين۔اعجاز اسیح - ر- خ- جلد 18 صفحہ 198 ) ( ترجمه از مرتب) پس خلاصه بیان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دو احمد پیدا کئے ایک اسلام کے ابتدائی زمانہ میں اور ایک آخری زمانہ میں۔اور اللہ تعالیٰ نے اہل عرفان کے لئے سورۃ فاتحہ کے شروع میں اور اس کے آخر میں الحمد کا لفظاً ومعناً تکرار کر کے ان دونوں (احمدوں) کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور خدا نے ایسا عیسائیوں کی تردید کے لئے کیا ہے اور اللہ تعالٰی نے دو احمد آسمان سے اُتارے تاوہ دونوں پہلوں اور پچھلوں کی حمایت کے لئے دو دیواروں کی طرح ہو جائیں۔دیواروں کی تمثیل کو آپ ایک اور مقام پر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔میں اس زمانے کا حصن حصین ہوں۔جو میرے میں داخل ہو گا وہ چوروں اور درندوں اور قزاقوں سے اپنی جان بچائے گا۔اور جو شخص میری دیواروں سے دور رہنا چاہتا ہے ہر طرف سے اس کو موت در پیش ہے۔اور اس کی لاش بھی سلامت نہیں رہے گی۔“ (فتح اسلام۔ر-خ- جلد 3 صفحہ 34) اس تمثیل کو آپ اپنے اردو اشعار میں ایسی خوب صورتی سے بیان کرتے ہیں کہ اس مضمون کے عرفان کا ابلاغ اس سے بہتر انداز میں نہیں ہوسکتا۔فرماتے ہیں۔ایک طوفاں ہے خدا کے قہر کا اب جوش میں نوح کی کشتی میں جو بیٹھے وہی ہو رستگار صدق سے میری طرف آؤ اسی میں خیر ہے ہیں درندے ہر طرف میں عافیت کا ہوں حصار پشتی ءِ دیوار دیں اور مامن اسلام ہوں نارسا ہے دستِ دشمن تا بفرق ایں جدار ان تماثیل میں جن قد آور دیواروں اور قلعہ کی فصیلوں کا ذکر ہوا ہے وہ کیا ہیں اور ان کو کس غرض کے تحت استوار کیا گیا ہے؟ آپ نے از خود اس کی وضاحت پشتی و دیوار دیں “ اور ”مامن اسلام“ کے الفاظ میں بیان کر دی ہے۔یعنی یہ کہ اس استعارے سے مراد قرآن کریم کی حقیقی تعلیم اور اس کے معارف کی وضاحت کے ظہور کا انتظام ہے۔دراصل یہ استعارہ قرآن کریم ہی سے ماخوذ ہے۔قرآن کریم نے اپنی تعلیم کو فرقان اور قول فصل قرار دیا ہے۔یعنی حق و باطل میں امتیاز کرنے والا اور ان دونوں کے درمیان فیصلہ کن عدالت کرنے والا۔یہ عدالت اول وقت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول اور فعل سے قرآن کریم کی تفسیر اور تعبیر کر کے قائم فرمائی۔اور آخر وقت میں آپ کے فرمان کے مطابق مہدی آخر الزمان نے اپنے منصب حکم و عدل کے تحت قائم کی۔انہی معنوں میں حضرت اقدس نے دیوار اور حصار کے الفاظ اختیار کئے ہیں۔کیونکہ دیوار دراصل مالکانہ حقوق کی تعیین اور دراندازی کو روکنے کے لئے قائم کی جاتی ہے۔اور حضرت اقدس اپنے اس منصب کو بیان کر رہے ہیں کہ فہم قرآن اور اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعین کے لئے آپ کا فرمان حد فاصل اور ممتاز ہے۔