حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 201
201 خاتم الخلفاء اور آدم ایک ہیں خدا نے آدم کو چھٹے دن بروز جمعہ بوقت عصر پیدا کیا۔توریت اور قرآن اور احادیث سے یہی ثابت ہے اور خدا نے انسانوں کے لئے سات دن مقرر کئے ہیں اور ان دنوں کے مقابل پر خدا کا ہر ایک دن ہزار سال کا ہے۔اس کی رو سے استنباط کیا گیا ہے کہ آدم سے عمر دنیا کی سات ہزار سال ہے اور چھٹا ہزار جو چھٹے دن کے مقابل پر ہے وہ آدم ثانی کے ظہور کا دن ہے یعنی مقدر یوں ہے کہ چھٹے ہزار کے اندر دینداری کی روح دنیا سے مفقود ہو جائے گی اور لوگ سخت غافل اور بیدین ہو جائیں گے تب انسان کے روحانی سلسلہ کو قائم کرنے کے لئے مسیح موعود آئے گا اور وہ پہلے آدم کی طرح ہزار ششم کے اخیر میں جو خدا کا چھٹا دن ہے ظاہر ہوگا چنانچہ وہ ظاہر ہو چکا اور وہ وہی ہے جو اس وقت اس تحریر کی رو سے تبلیغ حق کر رہا ہے۔میرا نام آدم رکھنے سے اس جگہ یہ مقصود ہے کہ نوع انسان کا فرد کامل آدم سے ہی شروع ہوا اور آدم پر ہی ختم ہوا کیونکہ اس عالم کی وضع دوری ہے اور دائرہ کا کمال اسی میں ہے کہ جس نقطہ سے شروع ہوا ہے اسی نقطہ پر ختم ہو جائے پس خاتم الخلفاء کا آدم نام رکھنا ضروری تھا۔( براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 21 صفحہ 260) روضہ آدم کہ تھا وہ نامکمل اب تلک میرے آنے سے ہوا کامل بجملہ برگ و بار در مشین اردو ) ( براہین احمدیہ۔رخ جلد 21 صفحہ 144) مثیل نوح ہونے کے اعتبار سے فَاَوْحَيْنَا إِلَيْهِ أَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا فَإِذَا جَاءَ أَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ : فَاسْلُكْ فِيهَا مِنْ كُلّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ إِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ ، وَلَا تُخَاطِبُنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا إِنَّهُمْ مُّغْرَقُونَ (المومنون: 28) اسی طرح براہین احمدیہ کے حصص سابقہ میں خدا تعالیٰ نے میرا نام نوح بھی رکھا ہے اور میری نسبت فرمایا ج ہے وَلَا تُخَاطِبُنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا إِنَّهُمْ مُغْرَقُونَ یعنی میری آنکھوں کے سامنے کشتی بنا اور ظالموں کی شفاعت کے بارے میں مجھ سے کوئی بات نہ کر کہ میں اُن کو غرق کروں گا۔خدا نے نوح کے زمانہ میں ظالموں کو قریباً ایک ہزار سال تک مہلت دی تھی اور اب بھی خیر القرون کی تین صدیوں کو علیحدہ رکھ کر ہزار برس ہی ہو جاتا ہے۔اس حساب سے اب یہ زمانہ اس وقت پر آپہنچتا ہے جب کہ نوح کی قوم عذاب سے ہلاک کی گئی تھی اور خدا تعالیٰ نے مجھے فرمايا إِصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ یعنی میری آنکھوں کے رو برو اور میر کے حکم سے کشتی بنا۔(براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 21 صفحہ 113)