حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 200 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 200

200 تَعُدُّونَ۔(السجدة: 6 ) اور اس کے ساتھ آیت قرآنیہ اِلى يَوْمِ يُبْعَثُونَ بھی پڑھو۔یہ آیت ہم نے سورہ سجدہ سے لی ہے اور یہ سنت نبوی ہے کہ یہ سورۃ ہر جمعہ کو صبح کی نماز میں پڑھی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ میں بیان فرمایا ہے کہ اس نے قرآن کریم نازل کر کے اپنی شریعت کے حکم کو اپنی تدبیر کے مطابق قائم کر دیا اور کلام مجید کے ساتھ لوگوں کے لئے ان کے دین کو مکمل کر دیا۔اس کے بعد پھر ایک زمانہ ایسا آئے گا جس کی ضلالت ایک ہزار سال تک ممتد رہے گی اور کتاب اللہ اٹھالی جائے گی اور قرآن کریم کے احکام اپنے دونوں حصوں سمیت اللہ کی طرف عروج کر جائیں گے یعنی اس زمانہ میں حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں ضائع کر دئیے جائیں گے اور اس کی دونوں قسموں پر فساد کی تند ہوائیں چلیں گی اور جھوٹ اور افتراء یعنی دجالی فتنے پھیل جائیں گے اور نافرمانی کفر اور شرک عام ہو جائے گا تو مجرم لوگوں کو اپنے رب سے سرتابی کرتے ہوئے اور خدا تعالیٰ کی مخالفت میں سرگرم دیکھے گا۔پھر اس کے بعد دوسرا ہزار سال آئے گا جس میں رب العالمین کی طرف سے لوگوں کی فریادرسی کی جائے گی اور آدم آخر زمان کو تجدید دین کے لئے مبعوث کیا جائے گا۔چنانچہ اس کی طرف اس کے بعد کی آیت یعنی وَ بَدَا خَلْقَ الْإِنْسَانِ مِنْ طین میں اشارہ کیا گیا ہے اور یہ موعود انسان مسیح موعود ہی ہے اور اس کی بعثت کا زمانہ خیر القرون سے ایک ہزار سال ختم ہونے کے بعد ہی مقدر تھا اور اسی پر انبیاء کی جماعت نے اتفاق کیا ہے۔فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلَى مَوْتِةٍ إِلَّا دَآبَّةُ الْأَرْضِ تَأْكُلُ مِنْسَأَتَهُ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا فِي الْعَذَابِ الْمُهِينِ (سبا: 15) یہ مسلمان دابتہ الارض ہیں اور اسی لئے اس کے مخالف ہیں جو آسمان سے آتا ہے۔جو زمینی بات کرتا ہے وہ دابتہ الارض ہے۔خدا تعالیٰ نے ایسا ہی فرمایا تھا۔روحانی امور کو وہی دریافت کرتے ہیں جن میں مناسبت ہو چونکہ ان میں مناسبت نہ تھی اس لئے انہوں نے عصائے دین کو کھا لیا جیسے سلیمان کے عصا کو کھا لیا تھا۔اور اس سے آگے قرآن شریف میں لکھا ہے کہ جب جنوں کو یہ پتہ لگا تو انہوں نے سرکشی اختیار کی۔اسی طرح پر عیسائی قوم نے جب اسلام کی یہ حالت دیکھی یعنی دابتہ الارض نے اس عصائے راستی کو کمزور کر دیا تو ان قوموں کو اس پر وار کرنے کا موقع دے دیا۔جن وہ ہے جو چھپ کر وار کرے اور پیار کے رنگ میں دشمنی کرتے ہیں وہی پیار جو تو اسے آکر نحاش نے کیا تھا۔اس پیار کا انجام وہی ہونا چاہیئے جو ابتداء میں ہوا۔آدم پر اسی سے مصیبت آئی۔اُس وقت گویا وہ خدا سے بڑھ کر خیر خواہ ہو گیا۔اسی طرح پر یہ بھی وہی حیات ابدی پیش کرتے ہیں جو شیطان نے کی تھی اس لئے قرآن شریف نے اول اور آخر کو اس پر ختم کیا۔اس میں سر یہ تھا کہ تابتا یا جاوے کہ ایک آدم آخر میں بھی آنے والا ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 143-144)