حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 161 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 161

161 یه قرآنی دعا اهدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ (الفاتح : 6) آنحضرت ﷺ کے ذریعہ سے قبول ہو کر اختیار وابرار مسلمان بالخصوص ان کے کامل فرد انبیاء بنی اسرائیل کے وارث ٹھہرائے گئے اور دراصل مسیح موعود کا اس امت میں سے پیدا ہونا یہ بھی اس دعا کی قبولیت کا نتیجہ ہے کیونکہ گوشفی طور پر بہت سے اختیار وابرار نے انبیاء بنی اسرائیل کی مماثلت کا حصہ لیا ہے۔مگر اس امت کا مسیح موعود گھلے گھلے طور پر خدا کے حکم اور اذن سے اسرائیلی مسیح کے مقابل پر کھڑا کیا گیا ہے۔تا موسوی اور محمدی سلسلہ کی مماثلت سمجھ آجائے۔اسی غرض سے اس مسیح کو ابن مریم سے ہر ایک پہلو سے تشبیہ دی گئی ہے یہاں تک کہ اس ابن مریم پر ابتلاء بھی اسرائیلی ابن مریم کی طرح آئے۔اول جیسا کہ عیسی بن مریم محض خدا کے نفخ سے پیدا کیا گیا اس طرح یہ میسج بھی سورۃ تحریم کے وعدہ کے موافق محض خدا کے نفخ سے مریم کے اندر سے پیدا کیا گیا اور جیسا کہ عیسی ابن مریم کی پیدائش پر بہت شور اٹھا اور اندھے مخالفوں نے مریم کو کہالقدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّا ( مریم): 28) اسی طرح اس جگہ بھی کہا گیا اور شور قیامت مچایا گیا اور جیسا کہ خدا نے اسرائیلی مریم کے وضع حمل کے وقت مخالفوں کو عیسی کی نسبت یہ جواب دیا وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً للنَّاسِ وَرَحْمَةٌ مِّنَّاحٍ وَكَانَ أَمْرًا مَّقْضِيَّا ( مریم:22 ) یہی جواب خدا تعالیٰ نے میری نسبت براہین احمدیہ میں روحانی وضع حمل کے وقت جو استعارہ کے رنگ میں تھا مخالفوں کو دیا اور کہا کہ تم اپنے فریبوں سے اس کو نابود نہیں کر سکتے میں اس کو لوگوں کے لئے رحمت کا نشان بناؤں گا اور ایسا ہونا ابتداء سے مقد رتھا۔(کشتی نوح رخ جلد 19 صفحہ 52 - 53) نجات یافتہ کون ہے؟ وہ جو یقین رکھتا ہے جو خدا سچ ہے اور محمد ﷺ اس میں اور تمام مخلوق میں درمیانی شفیع ہے اور آسمان کے نیچے نہ اس کے ہم مرتبہ کوئی اور رسول ہے اور نہ قرآن کے ہم مرتبہ کوئی اور کتاب ہے۔اور کسی کے لئے خدا نے نہ چاہا کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے مگر یہ برگزیدہ نبی ہمیشہ کے لئے زندہ ہے اور اس کے ہمیشہ زندہ رہنے کے لئے خدا نے یہ بنیاد ڈالی ہے کہ اس کے افاضہ تشریعی اور روحانی کو قیامت تک جاری رکھا اور آخر کار اس کی روحانی فیض رسانی سے اس مسیح موعود کو دنیا میں بھیجا جس کا آنا اسلامی عمارت کی تکمیل کے لئے ضروری تھا کیونکہ ضرور تھا کہ یہ دنیا ختم نہ ہو جب تک کہ محمدی سلسلہ کے لئے ایک مسیح روحانی رنگ کا نہ دیا جاتا جیسا کہ موسوی سلسلہ کے لئے دیا گیا تھا اسی کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ (کشتی نوح - ر- خ جلد 19 صفحه 14 الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ - معافی ”صراط" صراط لغت عرب میں ایسی راہ کو کہتے ہیں۔جو سیدھی ہو یعنی تمام اجزاء اس کے وضع استقامت پر واقع ہوں اور ایک دوسرے کی نسبت میں محاذات پر ہوں۔کالم نمبر 2 زیر عنوان مذہب اور سات کا عدد تفسیر حضرت اقدس سورۃ فاتر جلد 1 صفحہ 217) وَقِيلَ إِنَّ الطَّرِيقَ لَا يُسَمَّى صِرَاطًا عِنْدَ قَوْمٍ ذَوِى قَلْبٍ وَّنُوْرٍ حَتَّى يَتَضَمَّنَ خَمْسَةَ أُمُورٍ مِنْ أمُورِ الدِّينِ وَهِيَ الْإِسْتِقَامَةُ وَالْإِبْصَالُ إِلَى الْمَقْضُودِ بِالْيَقِينِ وَقُرُبُ الطَّرِيقِ وَسَعَتُهُ لِلْمَارِيْنَ وَتَعْيِينُهُ طَرِيقًا لِلْمَقْصُودِ فِى أَعْيُنِ السَّالِكِيْنَ وَهُوَ تَارَةً يُضَافُ إِلَى اللَّهِ إِذْ هُوَ شَرْعَةً وَهُوَ سَوَى سُبُلِهِ لِلْمَاشِينَ - وَتَارَةٌ يُضَافُ إِلَى الْعِبَادِ لِكَوْنِهِمْ أَهْلَ السُّلُوكِ وَالْمَآرِينَ عَلَيْهَا وَالْعَابِدِينَ (5) (2)