حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 162
162 ترجمہ: اور کہتے ہیں کہ صاحب دل اور روشن ضمیر لوگوں کے نزدیک طَرِيقِ (راستہ) کو اس وقت تک صِرَاط کا نام نہیں دیا جا سکتا جب تک کہ وہ امور دین میں سے پانچ امور پر مشتمل نہ ہو اور وہ یہ ہیں:۔(1) استقامت۔(2) یقینی طور پر مقصود تک پہنچنا۔(3) اُس کا نزدیک ترین ( راہ ) ہونا۔(4) گزرنے والوں کے لئے اس کا وسیع ہونا۔(5) سالکوں کی نگاہ میں مقصود تک پہنچنے کے لئے اس راستہ کا متعین کیا جانا۔اور صراط کا لفظ کبھی تو خدا تعالیٰ کی طرف مضاف کیا جاتا ہے کیونکہ وہ اس کی شریعت ہے اور وہ چلنے والوں کے لئے ہموار راستہ ہے۔اور کبھی اسے بندوں کی طرف سے مُضاف کیا جاتا ہے کیونکہ وہ اس پر چلنے والے اور گزرنے والے اور اسے عبور کرنے والے ہیں۔(کرامات الصادقین۔رخ جلد 7 صفحہ 137) اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ۔یعنی اے ہمارے - خدا ہمیں رسولوں اور نبیوں کی راہ پر چلا جن پر تیرا انعام اور اکرام ہوا ہے۔اب اس آیت سے کہ جو پنج وقتہ نماز میں پڑھی جاتی ہے۔ظاہر ہے کہ خدا کا روحانی انعام جو معرفت اور محبت الہی ہے صرف رسولوں اور نبیوں کے ذریعہ سے ملتا ہے نہ کسی اور ذریعہ ہے۔(حقیقۃ الوحی۔رخ جلد 2 2 صفحہ 134-135 ) حقیقی معانی صراط قرآن شریف نے جیسا کہ جسمانی تمدن کے لئے یہ تاکید فرمائی ہے کہ ایک بادشاہ کے زیر حکم ہو کر چلیں یہی تاکید روحانی تمدن کے لئے بھی کی ہے اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ یہ دعا سکھلاتا ہے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ۔پس سوچنا چاہیئے کہ یوں تو کوئی مومن بلکہ کوئی انسان بلکہ کوئی حیوان بھی خدا تعالیٰ کی نعمت سے خالی نہیں مگر نہیں کہہ سکتے کہ ان کی پیروی کے لئے خدا تعالیٰ نے یہ حکم فرمایا ہے لہذا اس آیت کے معنے یہ ہیں کہ جن لوگوں پر اکمل اور اتم طور پر غمت روحانی کی بارش ہوئی ہے ان کی راہوں کی ہمیں توفیق بخش کہ تاہم ان کی پیروی کریں۔سواس آیت میں یہی اشارہ ہے کہ تم امام الزمان کے ساتھ ہو جاؤ۔یادر ہے کہ امام الزمان کے لفظ میں نبی رسول محدث مجد دسب داخل ہیں مگر جو لوگ ارشاد اور ہدایت خلق اللہ کے لئے مامور نہیں ہوتے اور نہ وہ کمالات ان کو دیئے گئے وہ گولی ہوں یا ابدال ہوں امام الزمان نہیں کہلا سکتے۔(ضرورت الامام۔ریخ جلد 12 صفحہ 494) قرآن کریم اور حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ مرشد کے ساتھ مرید کا تعلق ایسا ہونا چاہیئے جیسا عورت کا تعلق مرد سے ہومر شد کے کسی حکم کا انکار نہ کرے اور اس کی دلیل نہ پوچھے یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ فرمایا ہے کہ منعم علیہم کی راہ کے مقیدر ہیں انسان چونکہ طبعاً آزادی کو چاہتا ہے پس حکم کر دیا کہ اس راہ کو اختیار کرے۔( ملفوظات جلد اول صفحه 404) صراط سے مراد مسیح موعود کی راہ ہے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ سے پایا جاتا ہے کہ جب انسانی کوششیں تھک کر رہ جاتی ہیں تو آخر اللہ تعالی ہی کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔دعا کامل تب ہوتی ہے کہ ہرقسم کی خیر کی جامع ہو اور شر سے بچاوے بس اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں سارے خیر جمع ہیں اور غيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِین میں سب شروں حتی کہ دجالی فتنہ سے بچنے کی دعا ہے۔مغضوب سے بالا تفاق یہودی اور الضالین کے نصاری مراد ہیں اب اگر اس میں کوئی رمز اور حقیقت یہ تھی تو اس دعا کی تعلیم سے کیا غرض تھی؟ اور پھر اسی تاکید کہ اس دعا کے بدوں نمازی نہیں ہوتی۔اور ہر رکعت میں اس کا پڑھا جانا ضروری قرار دیا بھید اس میں یہی تھا کہ یہ ہمارے زمانہ کی طرف ایما ہے۔اس وقت صراط مستقیم یہی ہے جو ہماری راہ ہے۔(ملفوظات جلد اول صفحہ 397 )