حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 160 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 160

160 ہدایت خدا تعالی ہی سے ملتی ہے وَحَنَّ عَلى طَلَبِ الْهِدَايَةِ إِشَارَةٌ إِلى أَنَّ الثَّبَات عَلَى الْهِدَايَةِ لَا يَكُونُ إِلَّا بِدَوَامِ الدُّعَاءِ وَالتَّضَرُّع فِي حَضْرَةِ اللهِ وَمَعَ ذَالِكَ إِشَارَةٌ إِلى أَنَّ الْهَدَايَةَ أَمْرٌ مِّنْ لَّدَيْهِ وَالْعَبْدُ لَا يَهْتَدِى أَبَدًا مِّن غَيْرانُ يَهْدِيَهُ اللَّهُ وَيُدْخِلَهُ فِي الْمَهْدِيِّينَ - وَإِشَارَةٌ إِلَى أَنَّ الْهِدَايَةَ غَيْرُ مُتَنَاهِيَةٍ وَتَرَقِّى النُّفُوسِ إِلَيْهَا بِسُلْمِ الدَّعَوَاتِ وَمَنْ تَرَكَ الدُّعَاءَ فَأَضَاعَ سُلَّمَةً فَإِنَّمَا الْحَرِيُّ بِالْاِهْتِدَاءِ مَنْ كَانَ رَطْبَ اللَّسَانَ بِالدُّعَاءِ وَذِكْرِ رَبِّهِ وَكَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْمُدَاوِمِين - ترجمہ: اور ہدایت کے طلب کرنے کی ترغیب دی اس بات کی) طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ہدایت پر ثابت قدمی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا اور گریہ وزاری میں دوام کے بغیر ممکن نہیں۔مزید برآں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ ہدایت ایک ایسی چیز ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی (ملتی) ہے اور جب تک خدا تعالیٰ خود بندہ کی رہنمائی نہ کرے اور اُسے ہدایت یافتہ لوگوں میں داخل نہ کر دے وہ ہرگز ہدایت نہیں پاسکتا۔پھر اس (امر کی) طرف بھی اشارہ ہے کہ ہدیت کی کوئی انتہاء نہیں اور انسان دعاؤں کی سیڑھی کے ذریعہ ہی اس تک پہنچ سکتے ہیں اور جس شخص نے دعا کو چھوڑ دیا اس نے اپنی سیٹرھی کھو دی۔یقیناً ہدیت پانے کے قابل وہی ہے جس کی زبان ذکر الہی اور دعا سے تر رہے اور وہ اس پر دوام اختیار کرنے والوں میں سے ہو۔کرامات الصادقین۔رخ جلد 7 صفحہ 124) ہدایت سے مراد بعثت حضرت اقدس -1 -2 چھٹی آیت اس سورة کی اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ہے گویا یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ چھٹے ہزار کی تاریکی آسمانی ہدایت کو چاہے گی اور انسانی سلیم فطرتیں خدا کی جناب سے ایک ہادی کو طلب کریں گی یعنی مسیح موعود کو۔(تحفہ گولڑویہ۔رخ جلد 7 صفحہ 284) خدا تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کی راہ یا یوں کہو کہ ہدایت کے اسباب اور وسائل تین ہیں۔یعنی ایک یہ کہ کوئی گم گشتہ محض خدا کی کتاب کے ذریعہ سے ہدایت یاب ہو جائے۔اور دوسرے یہ کہ اگر خدا تعالیٰ کی کتاب سے اچھی طرح سمجھ نہ سکے تو عقلی شہادتوں کی روشنی اس کو راہ دکھلا دے۔اور تیسرے یہ کہ اگر عقلی شہادتوں سے بھی مطمئن نہ ہو سکے تو آسمانی نشان اس کو اطمینان بخشیں۔یہ طریق ہیں جو بندوں کے مطمئن کرنے کے لئے قدیم سے عادة اللہ میں داخل ہیں یعنی ایک سلسلہ کتب ایمانیہ جو سماع اور نقل کے رنگ میں عام لوگوں تک پہنچتا ہے جن کی خبروں اور ہدایتوں پر ایمان لانا ہر ایک مومن کا فرض ہے اور ان کا مخزن اتم اور اکمل قرآن شریف ہے۔دوسرا سلسلہ معقولات کا جس کا منبع اور ماخذ دلائل عقلیہ ہیں۔تیسرا سلسلہ آسمانی نشانوں کا جس کا سر چشمہ نبیوں کے بعد ہمیشہ امام الزمان اور مجد دالوقت ہوتا ہے۔اصل وارث ان نشانوں کے انبیاء علیہم السلام ہیں۔پھر جب ان کے معجزات اور نشان مدت مدید کے بعد منقول کے رنگ میں ہو کر ضعیف التاثیر ہو جاتے ہیں تو خدا تعالیٰ ان کے قدم پر کسی اور کو پیدا کرتا ہے تا پیچھے آنے والوں کے لئے نبوت کے عجائب کرشمے بطور منقول ہوکر مُردہ اور بے اثر نہ ہو جائیں۔بلکہ وہ لوگ بھی بذات خود نشانوں کو دیکھ کر اپنے ایمانوں کو تازہ کریں۔(کتاب البریہ۔رخ جلد 13 صفحہ 49)